معین احسن جذبی ۔۔۔ ہم دہر کے اس ویرانے میں جو کچھ بھی نظارا کرتے ہیں

ہم دہر کے اس ویرانے میں جو کچھ بھی نظارا کرتے ہیں اشکوں کی زباں میں کہتے ہیں، آہوں میں اشارا کرتے ہیں کیا تجھ کو پتہ، کیا تجھ کو خبر، دن رات خیالوں میں اپنے اے کاکلِ گیتی! ہم تجھ کو جس طرح سنوارا کرتے ہیں اے موجِ بلا! ان کو بھی ذرا دو چار تھپیڑے ہلکے سے کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارا کرتے ہیں کیا جانیے کب یہ پاپ کٹے، کیا جانیے وہ دن کب آئے جس دن کے لیے ہم، اے جذبی! کیا…

Read More

حمایت علی شاعر

شاید آجائے کوئی تازہ ہوا کا جھونکا مَیں نے اِس آس میں دروازہ کھلا رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: آگ میں پھول

Read More

رات کٹ جائے کسی طرح تو بس ۔۔۔ حمایت علی شاعر

رات کٹ جائے کسی طرح تو بس ایک اِک لمحہ ہے ایک ایک برس روح اور جسم میں ہے جنگ کڑی ٹوٹ جائے نہ کہیں تارِ نفس ایسے جینے سے بھلا کیا حاصل زیست میں رنگ ہی باقی ہے نہ رَس اِک ذرا جراتِ پرواز کہ آج سو گئے تھک کے نگہبانِ قفس خامشی بول رہی ہو جیسے دل کی دھڑکن ہے کہ آوازِ جرس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: آگ میں پھول

Read More

تنہا تنہا ۔۔۔ حمایت علی شاعر

تنہا تنہا ۔۔۔۔ میں بہت تھک گیا ہوں یہ کٹھن راستہ مجھ سے اب طے نہ ہو گا یہ تمازت، یہ ویراں خموشی جو ازل سے مری ہم سفر ہے آج زنجیرِ پا بن گئی ہے یہ ہوا جس کے دامن میں بکھری ہوئی خاک ہے ۔۔۔ یا کہ سورج کی جھڑتی ہوئی راکھ ہے۔۔۔ میرے رستے میں دیوار سی بن گئی ہے میں بہت تھک گیا ہوں ایک پتھر کے مانند افتادہ ۔۔۔ چپ چاپ بیٹھا ہوا سوچتا ہوں میرے اطراف ہر چیز ٹھہری ہوئی ہے پیڑ، سورج، پہاڑ…

Read More

آغا شاعر قزلباس

عارض پہ مر مٹا، کبھی گیسو میں جا پھنسا دل کی ہمارے شام کہیں ہے سحر کہیں

Read More

خلاء ۔۔۔۔۔ حمایت علی شاعر

خلاء ۔۔۔۔ خود فریبی کا اِک بہانہ تھا آج اُس کا فسوں بھی ٹوٹ گیا آج کوئی نہیں ہے دور و قریب آج ہر ایک ساتھ چھوٹ گیا چند آنسو تھے بہہ گئے وہ بھی دل میں اِک آبلہ تھا، پھوٹ گیا اب کوئی صبح ہے نہ کوئی شام روشنی ہے نہ تیرگی ہے کہیں اُس کا غم تھا تو کتنے غم تھے عزیز وہ نہیں ہے تو آسماں نہ زمیں ہر طرف ایک ہو کا عالم ہے سوچتا ہوں کہ مَیں بھی ہوں کہ نہیں

Read More

تنہا تنہا …… حمایت علی شاعر

تنہا تنہا …….. میں بہت تھک گیا ہوں یہ کٹھن راستہ مجھ سے اب طے نہ ہو گا یہ تمازت، یہ ویراں خموشی جو ازل سے مری ہم سفر ہے آج زنجیرِ پا بن گئی ہے یہ ہوا جس کے دامن میں بکھری ہوئی خاک ہے یا کہ سورج کی جھڑتی ہوئی راکھ ہے میرے رستے میں دیوار سی بن گئی ہے میں بہت تھک گیا ہوں ایک پتھر کے مانند افتادہ چپ چاپ بیٹھا ہوا سوچتا ہوں میرے اطراف ہر چیز ٹھہری ہوئی ہے پیڑ، سورج، پہاڑ۔۔۔آسماں اس جہاں…

Read More

میر شیر علی افسوس … جان سے پہلے ہاتھ اُٹھائیے گا

جان سے پہلے ہاتھ اُٹھائیے گا جب کہیں اپنا دل لگائیے گا ہم نے جانا کہ شمع رُو ہیں آپ پر ہمیں کب تلک جلائیے گا مَیں تو جی دینے پر بھی حاضر ہوں کیا مجھے آپ آزمائیے گا رات جاتی ہے اپنی زلفوں کو مکھڑے پر کب تلک بنائیے گا ق کل ہے جی میں کہ جا کے اس کے پاس رو کے احوالِ دل سنائیے گا خواہ وہ مہرباں ہو خواہ نہ ہو اپنا دکھ درد سب جتائیے گا کر کے غیروں سے ربط، اے صاحب! کب تک…

Read More

انور شعور

ڈانٹ کھاتا ہے شعور آج گھرانے بھر کی بچپنے میں یہ چہیتا تھا گھرانے بھر کا

Read More