مجھے پتا ہے کہ رستہ کدھر تمام ہوا ترا بھلا ہو کہ میرا سفر تمام ہوا دلوں کو زنگ لگا ہے فراق شیشوں کو عجیب کارِ کثافت میں گھر تمام ہوا بلا سے اب کوئی آئے اُٹھا کے لے جائے کہ شاہزادی کے اندر کا ڈر تمام ہوا محبتوں کو بھی دیمک سی کھا رہی ہے عدن محل تمام ہوا تھا ، ہنر تمام ہوا
Read MoreTag: SHoaib Adan
شعیب عدن ۔۔۔ ہمیں بھی نقل مکانی سے خوف آتا ہے
ہمیں بھی نقل مکانی سے خوف آتا ہے جہاز ران ہیں پانی سے خوف آتا ہے کسی کسی کو پتا ہے کہ رات بھیگ چکی کسی کسی کو کہانی سے خوف آتا ہے ہماری چھت کو کسی کم نظر کی آہ لگی کہ اب تو اُٹھتی جوانی سے خوف آتا ہے میں جیسے پھیلتا جاتا ہوں اپنے چاروں طرف مجھے تو اپنی روانی سے خوف آتا ہے وہ سانپ جس کا زمانے پہ خوف طاری ہے اُسے بھی رات کی رانی سے خوف آتا ہے
Read More