نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی

نعت کیا ہے بس آپ کی تعریف رب بھی کرتا ہے آپ کی توصیف اس نے قرآن آپ کو بھیجا وصف ِذاتی ہے اس کی یہ تصنیف نعت جب بھی ہے روح میں اتری مضمحل قلب کی ہوئی تالیف منصبِ نعت ہے مسیحائی دور کرتی ہے روح کی تکلیف نعت پڑھتے ہی نیکیاں جاگیں ہر برائی میں ہو گیٔ تخفیف جس بھی محفل میں ذکرِ احمد ہو آپ لاتے ہیں اس میں خود تشریف آپ کا جو بھی دم نہیں بھرتا حق رسی میں ہوا نحیف و ضعیف حسن نعت…

Read More

سید ریاض حسین زیدی ۔۔۔ ستم کی زد میں ہر اک روزگار دیکھا ہے

ستم کی زد میں ہر اک روزگار دیکھا ہے یہ حرفِ صدق مگر پائیدار دیکھا ہے سمندِ شوق ترا ہر قدم مبارک ہے کہ جب بھی دیکھا تجھے شہسوار دیکھاہے کوئی تو جا کے تغافل شعار سے کہہ دے خموش آنسوؤں کو شعلہ بار دیکھا ہے خیالِ یار کی سرشاریاں میسر ہیں نفس نفس میں انھیں مشکبار دیکھا ہے سکون بانٹتا ہے بے غرض جو راہی کو اسی شجر کو سدا سایہ دار دیکھا ہے یہ سب ہوائے محبت کا فیض ہے جو ریاض فریب کھا کے بھی دل پُر…

Read More

سید ریاض حسین زیدی ۔۔۔ گو چمک ہے بہت سی کپڑوں پر

گو چمک ہے بہت سی کپڑوں پر پھر بھی رونق نہیں ہے چہروں پر جو ہنر تھا یقین کا مظہر واہموں پر ہے اور قیاسوں پر وعدہ ان کا تھا روزِ روشن کا تان ٹوٹی ہے کالی راتوں پر احترام اٹھ گیا صحیفوں کا حرف آنے لگا ہے لفظوں پر کیسے دن پھر گئے خزاوں کے خاک پڑتی گئی بہاروں پر قہقہوں میں سرور ملتا ہے کان دھرتا ہے کون آہوں پر جن میں کشکول ہے گدائی کا شرم آتی ہے ایسے ہاتھوں پر کمتریں ہیں جو بیچ دیتے ہیں…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی

جائیں جنت کو سب قرینے سے راستہ مل گیا مدینے سے رازِ ہستی ہے منکشف اس پر کھوجتا ہے جو اس دفینے سے جو بھی آئے،وہ جھولیاں بھر لے سب کو ملتا ہے اس خزینے سے ماہِ میلاد کر گیا فرخ سب مہینے ہیں اس مہینے سے آپ کو بھول کر رہیں زندہ موت آ جائے ایسے جینے سے لاکھ طوفاں ہوں درپئے آزار پار اتریں گے اس سفینے سے جو ہے خوشبو ریاض کلیوں میں ہے وہ سب آپؐ کے پسینے سے

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی

جائیں جنت  کو سب قرینے سے راستہ مل گیا مدینے سے رازِ ہستی ہے منکشف  اس پر کھوجتا ہے جو اس دفینے سے جو بھی آئے،وہ جھولیاں بھر لے سب کو ملتا ہے اس خزینے سے ماہِ میلاد کر گیا فرخ سب مہینے ہیں اس مہینے سے آپ کو بھول کر رہیں زندہ موت آ جائے ایسے جینے سے لاکھ طوفاں ہوں درپئے آزار پار اتریں گے اس سفینے سے جو ہے خوشبو ریاض کلیوں میں ہے وہ سب آپؐ کے پسینے سے

Read More

سید ریاض حسین زیدی ۔۔۔ گو چمک ہے بہت سی کپڑوں پر

گو چمک ہے بہت سی کپڑوں پر پھر بھی رونق نہیں ہے چہروں پر جو ہنر تھا یقین کا مظہر واہموں پر ہے اور قیاسوں پر وعدہ ان کا تھا روزِ روشن کا تان ٹوٹی ہے کالی راتوں پر احترام اٹھ گیا صحیفوں کا حرف آنے لگا ہے لفظوں پر کیسے دن پھر گئے خزاؤں کے خاک پڑتی گئی بہاروں پر قہقہوں میں سرور ملتا ہے کان دھرتا ہے کون آہوں پر جن میں کشکول ہے گدائی کا شرم آتی  ہے ایسے ہاتھوں پر کمتریں ہیں جو بیچ دیتے ہیں…

Read More

سید ریاض حسین زیدی ۔۔۔ روشنی آنکھ میں اتر آئے

روشنی آنکھ میں اتر آئے دل کو صورت کوئی نظر آئے کارفرما ہو صدق حرفوں میں لفظ ومعنی میں پھر اتر آئے دوستی آبلوں سے اچھی ہے کیا خبر راہ پر خطر آئے راحتیں اس کے پاؤں پڑتی ہیں آزمائش سے جو گزر آئے دست و بازو کا پھر ہنر مانیں راستے میں اگر بھنور آئے آنکھ پر بار ہے ستم خیزی آنکھ کیسے نہ روز بھر آئے دم بہ دم ہو ریاض ضو افشاں تیرگی زیر ہو ، سحر آئے

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی

میں کہ تھا تشکیک کی بے نور دلدل کا اسیر نورِ ایماں سے مزین ہو گیا،بدر منیر غربتِ کم مائیگی سے ہوگئی میری نجات مجھ کو عرفانِ خدا نے کر دیا ثروت نظیر ہو گیا ارفع و اعلیٰ صاحبِ تقویٰ جو ہے وہ فقیرِ بے نوا ہو یا شہنشاہِ شہیر جس نے کشکولِ گدائی تیرے آگے رکھ دیا ظاہروباطن کی دولت سے ہوا بے حد امیر جس نے صدقِ دل سے مانا تو ہے شہ رگ سے قریب ہو گیا تیرے قریں،وہ ہو گیا تیرا نصیر وہ سر افرازِ جہاں…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی

آپؐ ہیں — آپؐ کی خدائی ہے کس قدر آپؐ کی رسائی ہے آپؐ کی سب اداؤں پر قربان سب کا عنوان پارسائی ہے سدرت المنتہیٰ بھی پیچھے ہے کیسی سنگت خدا سے پائی ہے کلی چٹکی درود پڑھتے ہی نسبتِ خاص کام آئی ہے پھول مہکے ہیں آپؐ کے دم سے ذاتِ احمد سے لو لگائی ہے تذکرہ جس نے آپؐ کا چھیڑا اس کی رحمت سے آشنائی ہے دل پہ میرے ریاض شادابی آپؐ کے ذکر ہی سے آئی ہے

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی

ہے سب کائناتوں کا خالق خدا نہیں اس سے بڑھ کر کوئی بھی بڑا وہی دل کہ جس میں وہ گھر کر گیا وہی گھر۔۔۔وہی دل۔۔ہوا پارسا کوئی جان پرور ہے،بے جان ہے اسی کا وہ مرہون منت ہوا کوئی حدِ امکاں میں ہے یا نہیں نہیں حکمِ کن سے کوئی ماورا یہ پیار و محبت،یہ انس و وفا یہ انسانیت ہے اسی کی عطا اعانت طلب ہے اسے پیار ہے اک اشکِ ندامت ہوا کیمیا کوئی اس کی نیکی کا ہم سر نہیں جو اس کے لیے ہر بدی…

Read More