محمد علوی ۔۔۔ منہ زبانی قرآن پڑھتے تھے

منہ زبانی قرآن پڑھتے تھے پہلے بچے بھی کتنے بوڑھے تھے اک پرندہ سنا رہا تھا غزل چار چھ پیڑ مل کے سنتے تھے جن کو سوچا تھا اور دیکھا بھی ایسے دو چار ہی تو چہرے تھے اب تو چپ چاپ شام آتی ہے پہلے چڑیوں کے شور ہوتے تھے رات اترا تھا شاخ پر اک گل چار سو خوشبوؤں کے پہرے تھے آج کی صبح کتنی ہلکی ہے یاد پڑتا ہے رات روئے تھے یہ کہاں دوستوں میں آ بیٹھے ہم تو مرنے کو گھر سے نکلے تھے…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ سوالیہ اندیشے

سوالیہ اندیشے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس خزاں کی نئی اداسی کا رنگ کتنے برس پرانا ہے؟ زندگی مسکرا کے پوچھتی ہے وہ ممالک کہ جن کے جھنڈوں پر امن کی فاختائیں بیٹھی ہیں جنگ کے گیت گا رہے ہیں وہی اجلی اجلی سی صبح کی تتلی کیوں چپکنے لگی ہے کھڑکی سے؟ جالیاں پوچھتی ہیں شیشوں سے سنگ باراں کی تہہ میں کیا اب بھی کل کی وحشی ہوائیں دبکی ہیں؟ کیا تصادم کا کھیل جاری ہے ! ۔۔۔۔۔۔۔۔

Read More

نظام رامپوری ۔۔۔ وہی لوگ پھر آنے جانے لگے

وہی لوگ پھر آنے جانے لگے مرے پاس کیوں آپ آنے لگے کوئی ایسے سے کیا شکایت کرے بگڑ کر جو باتیں بنانے لگے یہ کیا جذبِ دل کھینچ لایا انھیں مرے خط مجھے پھر کے آنے لگے ابھی تو کہا ہی نہیں میں نے کچھ ابھی تم جو آنکھیں چرانے لگے ہمارے ہی آگے گلے غیر کے ہماری ہی طرزیں اڑانے لگے نہ بن آیا جب ان کو کوئی جواب تو منہ پھیر کر مسکرانے لگے

Read More

محمد علوی ۔۔۔ سچ ہے کہ وہ برا تھا ہر اک سے لڑا کیا

سچ ہے کہ وہ برا تھا ہر اک سے لڑا کیا لیکن اُسے ذلیل کیا یہ برا کیا گلدان میں گلاب کی کلیاں مہک اٹھیں کرسی نے اُس کو دیکھ کے آغوش وا کیا گھر سے چلا تو چاند مرے ساتھ ہو لیا پھر صبح تک وہ میرے برابر چلا کیا کوٹھوں پہ منہ اندھیرے ستارے اُتر پڑے بن کے پتنگ میں بھی ہوا میں اُڑا کیا اُس سے بچھڑتے وقت میں رویا تھا خوب سا یہ بات یاد آئی تو پہروں ہنسا کیا چھوڑو پرانے قصوں میں کچھ بھی…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ اے رسم و راہِ شہر کے محتاط ظرف رنگ

اے رسم و راہِ شہر کے محتاط ظرف رنگ ٹھوکر بھی کھا کے آیا نہ جینے کا ہم کو ڈھنگ آتی نہیں ہے سطحِ یقیں پر وفا کی لہر رہتی ہے صبح و شام مزاجوں میں سرد جنگ ہر صبح دُکھ سے چور ملا زخم زخم جسم ہر شب تھرک تھرک گیا آہٹ پہ انگ انگ تھا جس سے میرے سچ کے تحمل کا ربطِ خاص اترا اسی کے غم کا مری روح میں خدنگ ناآشنائے لذتِ لہجہ تھے سب ہی لوگ کیا کیا بساطِ لب پہ بکھیری نہ قوسِ…

Read More

میر تقی میر ۔۔۔ فلک نے پیس کر سرمہ بنایا

فلک نے پیس کر سرمہ بنایا نظر میں اس کی میں تو بھی نہ آیا زمانے میں مرے شور جنوں نے قیامت کا سا ہنگامہ اٹھایا بلا تھی کوفت کچھ سوز جگر سے ہمیں تو کوٹ کوٹ ان نے جلایا تمامی عمر جس کی جستجو کی اسے پاس اپنے اک دم بھی نہ پایا نہ تھی بیگانگی معلوم اس کی نہ سمجھے ہم اسی سے دل لگایا قریبِ دیر خضر آیا تھا لیکن ہمیں رستہ نہ کعبے کا بتایا حقِ صحبت نہ طیروں کو رہا یاد کوئی دو پھول اسیروں…

Read More

مرزا غالب ۔۔۔ عالم جہاں بعرضِ بساطِ وجود تھا

عالم جہاں بعرضِ بساطِ وجود تھا جوں صبح، چاکِ جَیب مجھے تار و پود تھا جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار صحرا، مگر، بہ تنگیِ چشمِ حُسود تھا بازی خورِ فریب ہے اہلِ نظر کا ذوق ہنگامہ گرم حیرتِ بود و نمود تھا عالم طلسمِ شہرِ خموشاں ہے سر بہ سر یا میں غریبِ کشورِ گفت و شنود تھا آشفتگی نے نقشِ سویدا کیا درست ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا…

Read More