افتخار شوکت ۔۔۔ اس کی باتیں سنا رہی ہے ہوا

اس کی باتیں سنا رہی ہے ہوا
مجھ کو پاگل بنا رہی ہے ہوا

بنتے جاتے ہیں نقش پانی پر
اپنا جادو دکھا رہی ہے ہوا

وا کیے بیٹھا ہوں دریچۂ دل
اس کی یادوں کی آ رہی ہے ہوا

بات سنتا نہیں کوئی اس کی
کب سے در کھٹکھٹا رہی ہے ہوا

شور جنگل کا سن کے لگتا ہے
مجھ کو شاید بلا رہی ہے ہوا

دے رہی ہے تسلی جھوٹی مجھے
آنسوؤں کو سکھا رہی ہے ہوا

دیر سے بے قرار لگتی ہے
خشک پتے اڑا رہی ہے ہوا

کس طرح روکوں میں اسے شوکت
نام اس کا مٹا رہی ہے ہوا

Related posts

Leave a Comment