اچھا ہے وہ بیمار جو اچھا نہیں ہوتا
جب تجربے ہوتے ہیں تو دھوکا نہیں ہوتا
جس لفظ کو میں توڑ کے خود ٹوٹ گیا ہوں
کہتا بھی تو وہ اس کو گوارہ نہیں ہوتا
تکذیبِ جنوں کے لیے اک شک ہی بہت ہے
بارش کا سمے ہو تو ستارہ نہیں ہوتا
کیا کیا در و دیوار مری خاک میں گم ہیں
پر اس کو مرا جسم گوارہ نہیں ہوتا
ہم لوگ جو کرتے ہیں وہ ہوتا ہی نہیں ہے
ہونا جو نظر آتا ہے، ہونا نہیں ہوتا
جس دن کے گزرتے ہی یہاں رات ہوئی ہے
اے کاش، وہ دن میں نے گزارا نہیں ہوتا
ہم ان میں ہیں جن کی کوئی ہستی نہیں ہوتی
ہم ٹوٹ بھی جائیں تو تماشا نہیں ہوتا
