وزیر آغا ۔۔۔ ایک خواب

ایک خواب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دھندلکوں کے باریک دھاگوں میں لپٹی ہوئی
مطمئن بے خبر

میں نے دیکھا وہ مجھ پر جھکی تھی
وہ چشمِ حسیں جس کے ہر انگ میں مامتا تھی

مجھے یوں لگا تھا وہ چشمِ حسیں تو مجھے
بس مجھے گھورتی ہے

کسی اور کو دیکھنے کی اسے نہ تو فرصت
نہ ہمت نہ خواہش

فقط مرکزِ ہست کو دیکھتی ہے
مجھے دیکھتی ہے

میں اس آنکھ کی جھیل میں تیرتے سبز بجرے
کی درزوں سے رِستے ہوئے گرم سیال سونے کی بوندوں

کے پیچھے لپکتا رہا جگنوؤں سے مجھے ان دنوں کیسی رغبت تھی
میں جلتے بجھتے ہوئے پیکروں کو پکڑ کر

انہیں اپنے تن پر سجانے کی خواہش میں
کس درجہ بے بس ہوا تھا

کہ میں خود بھی شاید
چمکتے ہوئے جگنوؤں کے سمندر میں

اک جلتا بجھتا سا جگنو تھا
اپنے ہی ہم زاد کو ڈھونڈھتا تھا

زمانہ وہ مکتب سے بھاگا ہوا وحشی لڑکا
جو میرے تعاقب میں گر گر کے پاگل ہوا تھا

اسے دھن اگر تھی تو بس اس قدر تھی
کہ وہ اپنی مٹھی میں مجھ کو گرفتار کر کے دکھائے

زمان و مکاں کی حدوں میں
کسی صاف تختی کے چہرے پہ لکھے

سیاہی کے بے نام نقطے پہ رکنے کا خوگر بنائے
مگر میں تو اس آنکھ کے آبِ غم کا شناور

زمانے کی مٹھی میں آنے سے بیزار تھا
جانتا تھا کہ ظالم زمانہ تو وحشی پرندے کی صورت

گرسنہ نگاہوں کے غرفوں سے مجھ کو ہمیشہ تکے گا
میں اس بات سے آشنا تھا

کہ میں گر رکا
تو مجھے آنکھ سے گرم آنسو کی صورت ٹپکنا پڑے گا

کسی سبز موتی کی ٹھنڈی لحد میں اترنا پڑے گا
پھر ایک روز

وحشی پرندے کی پہلی جھپٹ مجھ پہ نازل ہوئی
آنکھ رونے لگی

اور میں زخم کو چاٹتا
جھیل کے پانیوں میں سسکتا پھرا

آنکھ روتی رہی
ہر جھپٹ پر وہ آنسو کے قطروں میں ڈھل کر

کناروں سے باہر نکل کر بکھرتی ہوئی
اور پھر ایک دن

جھیل پانی کے امرت سے خالی ہوئی
جلنے بجھنے کے عالم سے آزاد ہو کر

زمان و مکاں کی حدوں میں
کسی صاف تختی کے چہرے پہ دھبہ بنی

اور میں
نیلے آکاش پر چیختے اور ہنستے ہوئے اس پرندے

کی آنکھوں میں اپنی ہی تصویر کو دیکھ کر مسکرایا
سیاہی کے جادو سے باہر نکل کر میں اپنے ہی عرفان سے جگمگایا

زمانہ مجھے دیکھ کر مجھ پہ جھپٹا
مگر میں تو اک جھیل تھا میرے اندر زمانوں کے بجرے تھے

بجروں سے سیال سونے کی کرنیں نکلنے لگی تھیں
زمانہ مجھے اپنے پنجے میں لینے کو جھپٹا مگر ایک پل میں

وہ خود میری مٹھی میں محبوس تھا
ایک جگنو جسے میں نے ماتھے پہ قشقہ بنا کر لگایا

جسے میں نے موتی کی ٹھنڈی لحد میں اتارا
جسے میں نے ٹھنڈی لحد کے کنارے کا کتبہ بنایا

Related posts

Leave a Comment