سلامِ عقيدت بحضور امامِ عالی مقام حسين عليہ السلام ۔۔۔ کوثر علی

سلامِ عقيدت بحضور امامِ عالی مقام حسين عليہ السلام

ذکرِ کربل میں جو کاغذ پہ قلم کھینچتے ہیں
جسمِ مظلوم سے اک تیرِ ستم کھینچتے ہیں

تشنہ بچّوں کے بِلکنے کی صدا آتی ہے
کربلا جائیں تو ہم سانس بھی کم کھینچتے ہیں

کتنے آنسو ہیں ترے پاس ؟ بتا ! آب ِ فرات!
ہم تو نسلوں سے شہنشاہ کا غم کھینچتے ہیں

پانی پیتے ہیں تو پیتے ہوۓ رک جاتے ہیں
پھر جو اک قطرہ بھی پیتے ہیں تو سَم کھینچتے ہیں

روز کہتے ہیں کہ ڈٹ جائیں یزیدوں کے خلاف
روز اک خواب سرِ دیدہؑ نم کھینچتے ہیں

کس قدر جبر میں زندہ ہیں کہ ہم سوۓ حسین
اک قدم جاتے ہیں اور ایک قدم کھینچتے ہیں

غمِ شبّیر میں یوں دل کو لیے پھرتے ہیں
تعزیہ جیسے عزادار بہم کھینچتے ہیں

اہلِ کعبہ تو گۓ شام کے زنداں کی طرف
جانے کیوں لوگ ہمیں سوۓ حرم کھینچتے ہیں

بغض کا کرنا ہو اندازہ جہاں پر کوثر
نامِ شبّیر وہاں ہم ہمہ دم کھینچتے ہیں

Related posts

Leave a Comment