سلامِ عقيدت بحضور امامِ عالی مقام حسين عليہ السلام ۔۔۔ کوثر علی

سلامِ عقيدت بحضور امامِ عالی مقام حسين عليہ السلام ذکرِ کربل میں جو کاغذ پہ قلم کھینچتے ہیں جسمِ مظلوم سے اک تیرِ ستم کھینچتے ہیں تشنہ بچّوں کے بِلکنے کی صدا آتی ہے کربلا جائیں تو ہم سانس بھی کم کھینچتے ہیں کتنے آنسو ہیں ترے پاس ؟ بتا ! آب ِ فرات! ہم تو نسلوں سے شہنشاہ کا غم کھینچتے ہیں پانی پیتے ہیں تو پیتے ہوۓ رک جاتے ہیں پھر جو اک قطرہ بھی پیتے ہیں تو سَم کھینچتے ہیں روز کہتے ہیں کہ ڈٹ جائیں یزیدوں…

Read More