سلام ۔۔۔ جلیل عالی

سلام

بندگانِ ریا کی نگاہوں میں شام و سحر اور تھے
اور اہلِ صفا کے رموزِ قیام و سفر اور تھے
.
چاند پیشانیوں پر فروزاں تھا جو فیصلہ ، اور تھا
چور چہروں پہ ٹھہرے ہوئے تھے جو اندر کے ڈر ، اور تھے
.
سب جبینیں وہاں رات دن تھیں زمیں بوسیوں میں مگن
کٹ کے کچھ اور اوپر اٹھے تھے مگر وہ جو سر،اور تھے
.
گو رہِ عشق میں شان پہلے بھی بے مثل تھی آپ کی
کربلا میں مگر سُرخرو تھے سوا ، معتبر اور تھے
.
سطحِ صحرا پہ عالی کہاں کوئی تحریر ٹھہری کبھی
لفظ لیکن لہو سے جو لکھے گئے ریت پر اور تھے

Related posts

Leave a Comment