اعجاز دانش ۔۔۔ جو مادرِ گیتی کا وفادار نہیں ہے

جو مادرِ گیتی کا وفادار نہیں ہے
وہ شخص ہے فنکار ، قلمکار نہیں ہے

دعویٰ ہے اگر مجھ سے محبت کا تجھے بھی
مجھ کو بھی ترے پیار سے انکار نہیں ہے

یہ غم کی کہانی میں کسے جا کے سناؤں
دشمن ہیں بہت کوئی مرا یار نہیں ہے

عاشق تو بنا پھرتا ہے ہر شخص یہاں پر
جاں دینے کو لیکن کوئی تیار نہیں ہے

میں جانتا ہوں میرے خدا تیرے علاوہ
دینا میں مرا کوئی بھی غمخوار نہیں ہے

بے خوف گزر جاؤں گا اس راہ گزر سے
صحرا ہے مرے سامنے دیوار نہیں ہے

اس بار چمن میں ہے عجب طرز کا موسم
رنگین ہر اک پھول ہے مہکار نہیں ہے

یہ حلقۂ دانش ہے یہاں کوئی بھی دانش
ناقد ہیں کوئی علم کا مینار نہیں ہے

Related posts

Leave a Comment