زیرِ تعمیر ہے دُنیا کے ستائے کا مکاں
ڈھونڈتا پھرتا ہُوں جنت میں کرائے کا مکاں
یوں تو مِلتی ہیں ہزاروں ہی مقلد گاہیں
شہر بھر میں نہیں اِک صاحبِ رائے کا مکاں
اپنی پرچھائیں میں بھی سر نہ چھپائیں لیکن
دھوپ میں دیکھنا پڑ جاتا ہے سائے کا مکاں
اُس کی آنکھوں میں بہت دیر رہے ہیں لیکن
راس آیا نہ کبھی ہم کو پرائے کا مکاں
ہم سے گمناموں کو رہتی ہے یہ حسرت خاور
ہو میسر ہمیں شہرت علی رائے کا مکاں
