اکرم سحر فارانی ۔۔۔ دو غزلیں

ہوتا ہے کام یُوں بھی وفا کے نصاب پر
آنکھیں کسی کی راہ میں، اُنگلی کتاب پر

یہ بھی تو ایک رنگ ہے عہدِ شباب کا
کرتی ہیں رقص خواہشیں دل کے رباب پر

فیشن میں ڈھل گئی ہے نمائش وجود کی
اُٹھنے لگی ہیں اُنگلیاں سادہ نقاب پر

مانا وہ بے وفا ہے مگر اِس کے باوجود
کرتے ہیں لوگ رشک مرے انتخاب پر
سینچے گا کس طرح وہ محبت کا گُلستاں
جس نے وفا کا ڈیم بنایا سراب پر

ایسے میں خامشی ہی مناسب جواب ہے
جب سینکڑوں سوال اُٹھیں اِک جواب پر

میری طویل عمر تو اِتنی سی ہے سحرؔ
ٹھہرا ہوا حباب ہوں میں سطحِ آب پر

۔۔۔۔۔

عشق جب آہ بھرے سوختہ سامانی میں
آگ لگ جاتی ہے رسموں کے رواں پانی میں

جوش میں ہوش کا میں اس لئے رکھتا ہوں خیال
عقل بہہ جائے نہ جذبات کی طُغیانی میں

کتنا مشکل ہے جدائی کی اذیّت سہنا
خود کُشی کرنے لگے خوا ب پریشانی میں

کون آ تا ہے حفاظت کی ضمانت دینے
جب کوئی گھر ہو لُٹیروں کی نگہبانی میں
میری آنکھوں میں ترا عکس نظر آتے ہی
آئنہ چوم لیا عشق نے حیرانی میں

اب ہیں جنگل کے مناظر مرے گُلشن میں سحرؔ
بھیڑئیے پِھرنے لگے خِلعتِ انسانی میں

Related posts

Leave a Comment