ہوتا ہے کام یُوں بھی وفا کے نصاب پر آنکھیں کسی کی راہ میں، اُنگلی کتاب پر یہ بھی تو ایک رنگ ہے عہدِ شباب کا کرتی ہیں رقص خواہشیں دل کے رباب پر فیشن میں ڈھل گئی ہے نمائش وجود کی اُٹھنے لگی ہیں اُنگلیاں سادہ نقاب پر مانا وہ بے وفا ہے مگر اِس کے باوجود کرتے ہیں لوگ رشک مرے انتخاب پر سینچے گا کس طرح وہ محبت کا گُلستاں جس نے وفا کا ڈیم بنایا سراب پر ایسے میں خامشی ہی مناسب جواب ہے جب سینکڑوں…
Read More