تصدق شعار ۔۔۔ دو غزلیں (ماہنامہ بیاض لاہور مارچ 2022 )

جب سفینہ کسی منجدھار میں آ جاتا ہے
کوئی رخنہ مری پتوار میں آ جاتا ہے

غم جو الفاظ کی بندش میں نہیں آ سکتا
چُپ کے پیرایۂ اظہار میں آ جاتا ہے

سنگ چُنوا دیئے جب اُس نے جھروکے کی جگہ
اُس کا چہرہ مری دیوار میں آ جاتا ہے
بدنصیبی سے اگر بُھوک گلے پڑ جائے
گھر کا سامان بھی بازار میں آ جاتا ہے

اُس کو رہتا ہے مرے سامنے آنے سے گریز
یہ الگ بات کہ اشعار میں آ جاتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لُطف تو کیا کہ سلامِ سرِ راہے بھی نہیں
تیری دنیا میں ہم ایسے پرِ کاہے بھی نہیں

دارِ الفت پہ معلّق ہیں بڑی دیر سے ہم
وہ گُریزاں جو نہیں ہے تو ہے چاہے بھی نہیں

اور تو بندشِ الفاظ سے ہے کیا حاصل
اِس ریاضت کو اگر کوئی سراہے بھی نہیں
حال اُس چشمِ فُسوں ساز کا کیا پوچھتے ہو
مہرباں ہوتی ہے گاہے ، کبھی گاہے بھی نہیں

زندگی موت کو رستہ بھی نہیں دیتی ہے
اور کبھی اپنے تقاضوں کو نباہے بھی نہیں

Related posts

Leave a Comment