جلیل عالی ۔۔۔ سپرد ہیں ہر کسی کو احوال اپنے اپنے

سپرد ہیں ہر کسی کو احوال اپنے اپنے
اٹھائے پھرتے ہیں ہم مہ و سال اپنے اپنے

کسی کو کیا فیض دے یہاں رہبری کسی کی
لئے پھریں ہر کسی کو جنجال اپنے اپنے

نشاط لمحوں کو صید کرنے کی آرزو میں
بچھائے بیٹھے ہیں سب یہاں جال اپنے اپنے

جدا جدا ہر کسی کی پرواز کا زمانہ
لہو،فضا،آسماں ،پر و بال اپنے اپنے

جو دوسروں کی نگاہ کے آئنے نہ ہوتے
تو دل کہاں ڈھونڈتے خد و خال اپنے اپنے

Related posts

Leave a Comment