راحت سرحدی ۔۔۔ کہیں بھی بامِ فلک پر کوئی ستارہ نہیں

کہیں بھی بامِ فلک پر کوئی ستارہ نہیں
مجھے تو لگتا ہے یہ آسماں ہمارا نہیں

مرے خیا ل میں وہ وقت رائگاں گزرا
تمھارے حسن کے سائے میں جو گزارا نہیں

اگرچہ ہوتی ہے ہر شے کی انتہا کوئی
سرابِ عشق کا لیکن کہیں کنارہ نہیں

جو وقت پڑنے پہ ڈھے جائے آپ سے پہلے
وہ ایک بوجھ تو ہو سکتا ہے سہارا نہیں

کسی کے تل کا بدل جا کے کہنا حافظ سے
ہے کائنات ثمر قند اور بخارا نہیں

یہ آئنہ ابھی پوری طرح نہیں ٹوٹا
تجھے بھلا کے بھی دل سے مگر اتارا نہیں

بنی تھی جان پہ راحت مگر خدا کے سوا
کسی کو اپنی مدد کے لیے پکارا نہیں

Related posts

Leave a Comment