بہرِ درماں جو کوئی درد کا پیکر نکلے
شاخِ احساس پہ تنویر سجا کر نکلے
اور پھر بارشِ انوار سے بھر دے دامن
تھامے بادل کی کلائی کوئی رہبر نکلے
وہ جو گردابِ بلا ٹھیل گئے جھیل گئے
بحرِ ہستی کے تلاطم میں شناور نکلے
جن کے سینے میں دھڑکتا نہیں ریزہ کوئی
دوست ایسے ہی مری راہ کے پتھر نکلے
وہ کہ جو قوتِ بازو پہ بہت نازاں ہے
آج آ جائے مقابل مرے ، باہر نکلے
بد گمانی نے کئی چہرے بجھا رکھے تھے
آزمائے تو رضا سرو و صنوبر نکلے
