شہاب صفدر ۔۔۔ لاکھوں کے بیچ ہے کوئی تنہا کھڑا ہوا  

لاکھوں کے بیچ ہے کوئی تنہا کھڑا ہوا
دیکھوتو سنگ ریزوں میں ہیرا پڑا ہوا
تو مصلحت کے سائے میں کیا قد نکالتا
بے دھوپ کھائے کب کوئی پودا بڑا ہوا
ٹکرا کے لوٹ جائیں گی منہ زور آندھیاں
مٹی میں اپنی کوہ صفت ہوں گڑا ہوا
سستانے بیٹھ جائے گھڑی بھر تو اور بات
چھتری پہ لوٹ آتا ہے پنچھی لڑا ہوا
اے چھوڑ جانے والے ہوا کیش یاد رکھ
محروم ِ نم ہی رہتا ہے پتا جھڑا ہوا
ایسےتواس کودل میں جگہ ہم نےدی نہیں
نایاب ہے انگوٹھی میں پتھر جڑا ہوا
باہر نکلنا جب ہو فضا معتدل شہاب
فی الحال احتیاط کہ موسم کڑا ہوا

Related posts

Leave a Comment