ظہور چوہان ۔۔۔ مثالِ ابر کڑی دھوپ میں بھی سایہ کرے

مثالِ ابر کڑی دھوپ میں بھی سایہ کرے
اب اُس کی باتیں کوئی تو مجھے سنایا کرے

یہ بام ِ ہجر ہے ، آسیب اِس میں رہتا ہے
سو ، وقت ِ شام کوئی اس طرف نہ جایا کرے

مَیں اپنے آپ میں تقسیم ہونے لگتا ہوں
اُسے کہو کہ مرے سامنے نہ آیا کرے

کبھی تو روشنی آئے مرے دریچے میں
کبھی وہ خواب حقیقت میں بھی دکھایا کرے

فلک پہ صبح کو سورج ظہور ہونے تک
مرا وجود کوئی شب سے مانگ لایا کرے

Related posts

Leave a Comment