جتنا بھی پیار ، فیس بُک پر ہی
یار دل دار ، فیس بُک پر ہی
قول اقرار ، فیس بُک پر ہی
سارے اظہار ، فیس بُک پر ہی
سچ تو یہ ہے کہ مرنے والوں کا
اب ہے دیدار ، فیس بُک پر ہی
ہو محبت کا ، یا کہ نفرت کا
اب تو اظہار ، فیس بُک پر ہی
ویسے تو ملنا کب نصیبوں میں
آنکھیں بھی چار فیس بُک پر ہی
پگڑیاں بھی اچھلتی دیکھیں یاں
عزتیں تار فیس بُک پر ہی
وقت پڑنے پہ وا ہوا عقدہ
یاروں کے یار فیس بُک پر ہی
آمنے سامنے ، کہاں عاصم
جیت اور ہار فیس بُک پر ہی
