علی اصغر بلوچ ۔۔۔ اس دل کے گزرگہ سے گزر جائیں گے اک دن

اس دل کے گزرگہ سے گزر جائیں گے اک دن
یعنی کہ جو زندہ ہیں وہ مر جائیں گے اک دن

امید پہ موقوف ہے یہ رونقِ دنیا
صحرا میں بھٹکتے ہوئے گھر جائیں گے اک دن

یہ کون سخی دشتِ اذیت میں کھڑا ہے
لینے کو قدم اس کے شجر جائیں گے اک دن

تم نے تو یہ سمجھا ہے کہ دیوار بنے ہو
جانے کے نہیں لوگ مگر جائیں گے اک دن

ایوانِ تمنا میں کوئی جشن بپا ہے
کہرام مچے گا جو ادھر جائیں گے اک دن

ہم خاک بہ سر پھرتے ہیں آندھی کے مقابل
ہم لوگ تری رہ میں بکھر جائیں گے اک دن

نکلے گا عصا لے کے کوئی ہاتھ میں اصغر
فرعون صفت لوگ بھی ڈر جائیں گے اک دن

Related posts

Leave a Comment