بے گھری حاصلِ سفر ہے کیا
کیا یہ مَیں ہوں، یہ میرا گھر ہے کیا
عکس محرومِ خود نمائی ہے
آج آئینہ بے بصر ہے کیا
مَیں تجھے بھی سنائی دیتا ہوں
میری فریاد میں اثر ہے کیا
عشق کو راہبر بنایا ہے
اِس کا حاصل یہ دردِ سر ہے کیا
کون یہ فرق جان سکتا ہے
خود فریبی ہے کیا، ہنر ہے کیا
خواب میں اِک گلاب کا کِھلنا
منحصر میری نیند پر ہے کیا
سوچتا ہوں کبھی کبھی مَیں بھی
میرے ایثار کا ثمر ہے کیا
رنج سے بھر گیا ہے دل میرا
مجھ سے بے زار چشمِ تر ہے کیا
دل کی دھڑکن بتا رہی ہے مجھے
خامشی کیا ہے، شور و شر ہے کیا
کہکشائیں نشانِ منزل ہیں
آسماں کوئی رہ گزر ہے کیا
کیا حقیقت ہے رات اور دن کی
شام کیا چیز ہے، سحر ہے کیا
خاکداں آنکھ میں سمٹ آیا
اور اعجازِ بال و پَر ہے کیا
دیکھ لیں گے جو ہو گا اب ساجدؔ
عشق اور موت سے مَفر ہے کیا
