غلام حسین ساجد ۔۔۔ نیند پہنے ہوئے نظر میری

نیند پہنے ہوئے نظر میری
ہر سفر میں ہے ہم سفر میری

کس کو دعویٰ ہے سرفروشی کا
کون آئے گا راہ پر میری

یہ اندھیرا مرا مقدّر ہے
یہ سیاہی ہے عمر بھر میری

اپنے ہونٹوں سے اپنا نام لکھا
اُس نے پیشانی چوم کر میری

اُس کو پہچان ہی نہیں پایا
کیا بصیرت ہے بے بصر میری

مَیں عمل پر یقین رکھتا ہوں
بات ہوتی ہے مختصر میری

خاک پر میری حکمرانی ہے
مدح کرتے ہیں بحر و بر میری

کون جوڑے گا میرا دل ساجدؔ
کون دیکھے گا چشمِ تر میری

Related posts

Leave a Comment