غلام حسین ساجد ۔۔۔ کِھل رہا ہے گُلِ عجم میرا

کِھل رہا ہے گُلِ عجم میرا
آنے والا ہے کیا صنم میرا

قافلے ریت پر اُترتے رہے
پھڑپھڑاتا رہا عَلَم میرا

اُس پری زاد کے بغیر کبھی
رنگ ہوتا نہ مختتم میرا

ڈوبتا ہوں کبھی اُبھرتا ہوں
مجھ پہ حاوی ہے زیر و بم میرا

جلوہ فرما ہے اب اندھیرے میں
نُور تھا روشنی میں ضم میرا

میری آنکھیں چھلک نہ جائیں کہیں
کاش باقی رہے بھرم میرا

روز اِس مے کدے میں ہوتا ہے
کوئی آئینہ ہم قدم میرا

اب تو ساجدؔ کسی کی محفل میں
ذکر ہوتاہے کم سے کم میرا

Related posts

Leave a Comment