محمد انیس انصاری ۔۔۔ دو غزلیں

میں حرف حرف ہوا ہوں گریز پائی سے
تجھے کمال میسّر ہے آشنائی سے

میں کب تلک یونہی لڑتار ہوں حقوق کی جنگ
شکست کھائے چلا جائوں نارسائی سے

رقابتوں کا یہ دیرینہ کھیل ختم بھی ہو
کہ تھک گیا ہوں میں اس پنجہ آزمائی سے
سمیٹ لوں میں ابھی ذات کی توانائی
پھر ایک حشر اٹھے گا مری اکائی سے

انیس! جھیل رہا ہوں مسافتوں کے عذاب
کہ منزلیں ہیں عبارت شکستہ پائی سے

۔۔۔۔

پسِ مژگاں اذیّت سہہ رہا ہے
سمندر قطرہ قطرہ بہہ رہا ہے

دریچے میں ذرا آکر تو دیکھو
پرندہ دیر سے کچھ کہہ رہا ہے

مجھے بھی ڈھونڈ لے گا رزق میرا
اگر پتھر میں کیڑا رہ رہا ہے

میں دیوارِ بدن کیسے سنبھالوں
انیسِ جاں! یہ گھر اب ڈھہ رہا ہے

Related posts

Leave a Comment