کس لیے ارد گرد کھینچ لیے دائرہ دائرہ دَر و دیوار
Read MoreMonth: 2019 دسمبر
خالد احمد
ربِّ گل! ربِّ رنگ! ربِّ بہار! ایک نقش اور، ربِّ نقش و نگار!
Read Moreانور شعور
اِدھر کسی سے کچھ لیا، اُدھر کسی کو دے دیا چنانچہ واجب الادا حساب ایک بھی نہیں
Read Moreانور شعور
ضیافتوں میں آج کل رواجِ سرخوشی کہاں کچھ اور پی رہے ہیں سب شراب ایک بھی نہیں
Read Moreانور شعور
ہماری سرگزشت میں ہزار واقعات ہیں مگر جو دیکھتے رہے وہ خواب ایک بھی نہیں
Read Moreانور شعور
مباحثوں کا ماحصل فقط خلش، فقط خلل سوال ہی سوال ہیں، جواب ایک بھی نہیں
Read Moreانور شعور
چمن میں آپ کی طرح گلاب ایک بھی نہیں حضور ایک بھی نہیں، جناب ایک بھی نہیں
Read Moreاحمد ندیم قاسمی
عشق، تہذیب میں زنجیر ہوا کوئی شدت، کوئی حدت نہ رہی
Read Moreاحمد ندیم قاسمی
جب سے آنکھوں میں کھٹکنے لگی ریت میرے صحراؤں میں وُسعت نہ رہی
Read Moreاحمد ندیم قاسمی
جو چہرہ سامنے آیا، وہ سامنے ہی رہا زوالِ عمر کے دن کتنے خوبصورت ہیں
Read More