پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی رحلت فرما گئے (17 اپریل 2021) انا للہ وانا الیہ راجعون
Read MoreMonth: 2021 اپریل
ڈاکٹر صغیر احمد صغیر… سچ بتانے پہ یوں ہوا مرے ساتھ
سچ بتانے پہ یوں ہوا مرے ساتھمیں اکیلا ہی رہ گیا مرے ساتھ کوئی ہوتا جو سوچتا مرے ساتھاور پھر مانگتا دعا مرے ساتھ دیر تک ہم کلام رہتے ہیںایک تصویر اک دیا مرے ساتھ فیصلہ تجھ پہ چھوڑتا ہوں میںایک بار آنکھ تو ملا مرے ساتھ کس قدر تجھ کو تو حسیں لگتاآئینہ تو جو دیکھتا مرے ساتھ لوگ تجھ سے سوال پوچھیں گےایسے تصویر مت بنا مرے ساتھ میرے بارے میں پوچھنے والےمیں ابھی خود نہیں ملا مرے ساتھ میں نے سوچا کہ بے وفا ہو تمدل مرا…
Read Moreسعادت سعید ۔۔۔ کشمیر اداس ہے
کشمیر اداس ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی برف پگھلی نہیں ہے چناروں پہ پھولوں کی گلکاریاں کس نے دیکھیں ابھی برف پگھلی نہیں ہے نہ جانے گلابوں کی خوشبو سے محروم مظلوم وادی پہ سورج کی روشن شعاعوں کے وہ کارواں اب تلک کیوں نہ اترے کہ جن کی تمازت سے جھیلوں میں آزاد بجروں کے موسم چہکنے لگیں گے لہو رنگ کشمیر شب خون کے سلسلے کب تلک چل سکیں گے ابھی برف پگھلی نہیں ہے ہوائیں ابھی منجمد ہیں اداسی کے نوحے سناتی فضائیں ابھی منجمد ہیں تری خلق…
Read Moreنذیر قیصر
کبھی کبھی میں ستاروں میں جا نکلتا ہوں خدا کو اپنی نئی شاعری سناتا ہوا
Read Moreتاج انصاری انتقال فرما گئے۔
باقر علی شاہ… کون صلیبیں ٹھونک رہے ہیں
کون صلیبیں ٹھونک رہے ہیں پھر سے مسیحا چونک رہے ہیں شاید روشنی یوں ہی پھیلے خود کو آگ میں جھونک رہے ہیں ماس اور خون انھیں چاہیے ہے شیر جو پھر سے ہونک رہے ہیں لوگوں کا خوں چوسنے والے پہلے جنم میں جونک رہے ہیں منزل ہے یہ کون سی باقر کتے کس پر بھونک رہے ہیں
Read Moreمولانا محمد حسین آزاد کی ایک نظم سے اقتباس
بشکریہ: باقر علی شاہ
Read Moreجہانگیر عمران
ساتھ تنہائی بھی گھبرا کے نکل آتی ہے ہم گھڑی بھر کو جو دالان میں آ بیٹھتے ہیں
Read Moreمسعود منور ۔۔۔ زندگی ، خاک و خُون کی وادی
زندگی ، خاک و خُون کی وادی میں ہوں اور اشک ہائے بربادی کرسیوں کو لگی ہوئی دیمک چاٹ جاتی ہے رزقِ آبادی حکمراں لوگ ، اس زمانے کے آنکھ پتھر کی ، دل ہے فولادی اِن سیاسی بٹیر بازوں سے کیسے چھینیں گے لوگ آزادی ایک دریا نیا بہا لیتے جتنی قوت تھی اپنی افرادی یہ زمیں جنگ کا جو میداں ہے میں نے اپنی کمر پہ کیوں لادی شہرِ توحید کا مہاجر میں اور یہ مملکت ہے الحادی میں تھا زندہ…
Read Moreعرفان صدیقی ۔۔۔ اٹھو یہ منظرِ شب تاب دیکھنے کے لیے
اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے وہ مرحلہ ہے کہ اب سیل خوں پہ راضی ہیں ہم اس زمین کو شاداب دیکھنے کے لیے جو ہو سکے تو ذرا شہ سوار لوٹ آئیں پیادگاں کو ظفر یاب دیکھنے کے لیے کہاں ہے تو کہ یہاں جل رہے ہیں صدیوں سے چراغ دیدہ و محراب دیکھنے کے لیے
Read More