صغیر احمد صغیر ۔۔۔ وقت پڑنے پہ اگر کام نہ آئے دنیا

وقت پڑنے پہ اگر کام نہ آئے دنیا ایسی دنیا ہے تو پھر بھاڑ میں جائے دنیا نہ بنی تھی یہ کسی کی نہ ہے بننے والی پھر بھی ہر شخص یہ کہتا ہے کہ ہائے دنیا پارسا ہوں کہ گنہگار میں سب جانتا ہوں میرے بارے میں مجھے کچھ نہ بتائے دنیا سچ بتاتے ہوئے خاطر میں نہیں لانے کا جس قدر چاہے بھلے شور مچائے دنیا کوئی خواہش کوئی لالچ نہ ہوس ہے دل میں ہم فقیروں پہ عبث سر نہ کھپائے دنیا ما سوا لَھوْ و لَعِب…

Read More

صغیر احمد صغیر ۔۔۔ کبھی تو دیکھو گے ان کی لالی جناب عالی (ماہنامہ بیاض مارچ 2022)

کبھی تو دیکھو گے ان کی لالی جناب عالی ہماری آنکھیں جو ہیں سوالی جناب عالی اب اور کیسا بنائیں خود کو جو بھائیں تم کو کہ اب تو ہم نے انا بھی ڈھا لی جناب عالی عجب قرینہ، عجب مہارت ہے گفتگو میں جو اتنا اچھے سے بات ٹالی جناب عالی ہمارا بچپن کا یار تھا جو، وہ چاہتا ہے ہم اس کو بولیں جناب عالی، جناب عالی تمہاری ضد ہے تو نام بھی اب کے لیں تو کہنا لو آج ہم نے قسم اٹھا لی جناب عالی وہ…

Read More

صغیر احمد صغیر ۔۔۔ خدا کرے کہ ہمیشہ مرا رہے، آمین

خدا کرے کہ ہمیشہ مرا رہے، آمین جو میرا ہو وہ مرا اس طرح بنے، آمین تو کائنات کی ہر چیز مجھ کو مل جائے مری دعا پہ اگر یار تو کہے، آمین دعائیں کرتا ہوں جو میں وہ تم بھی کرتے رہو خدا مٹا دے ہمارے یہ فاصلے، آمین عجب نہیں کہ وہ تصویر سے نکل آئے عجب دعا ہے کہ سینے سے آ لگے، آمین اگر وہ پلکیں اٹھائے صغیر کچھ نہ کہے ہم اس کی بات پہ کہتے ہیں بِن سنے، آمین

Read More

ڈاکٹر صغیر احمد صغیر… سچ بتانے پہ یوں ہوا مرے ساتھ

سچ بتانے پہ یوں ہوا  مرے ساتھمیں اکیلا ہی رہ گیا مرے ساتھ کوئی ہوتا جو سوچتا مرے ساتھاور پھر مانگتا دعا مرے ساتھ دیر تک ہم کلام رہتے ہیںایک تصویر اک دیا مرے ساتھ فیصلہ تجھ پہ چھوڑتا ہوں میںایک بار آنکھ تو ملا مرے ساتھ کس قدر تجھ کو تو حسیں لگتاآئینہ تو جو دیکھتا مرے ساتھ لوگ تجھ سے سوال پوچھیں گےایسے تصویر مت بنا مرے ساتھ میرے بارے میں پوچھنے والےمیں ابھی خود نہیں ملا مرے ساتھ میں نے سوچا کہ بے وفا ہو تمدل مرا…

Read More

ڈاکٹر صغیر احمد صغیر ۔۔۔ یہ جو وحشت ہے عقیدت بھی تو ہو سکتی ہے

یہ جو وحشت ہے عقیدت بھی تو ہو سکتی ہے میری یک طرفہ محبت بھی تو ہو سکتی ہے بس یہی سوچ کے مندر میں نہیں جاتا میں کوئی مورت تری صورت بھی تو ہو سکتی ہے ٹال دیتے ہو یوں ہی ہنس کے مِری باتوں کو میری باتوں میں حقیقت بھی تو ہو سکتی ہے جب بہار آئے گلستاں کو نکل جاتا ہوں تیرے چہرے کی زیارت بھی تو ہو سکتی ہے تو بس اک بار کبھی دیکھ مری آنکھوں میں کوئی تحریر عبارت بھی تو ہو سکتی ہے…

Read More