خود کو بھی یاد میں اب ایک زمانے سے نہیں تم گریبان سے پکڑو مجھے شانے سے نہیں
Read MoreMonth: 2021 مئی
کاشف مجید ۔۔۔ نظم زندگی کو واپس لا سکتی ہے
نظم زندگی کو واپس لا سکتی ہے ایک خواب سے رات کا راستہ روکا جا سکتا ہے خواب کو ممنوع قرار دینے والوں کو یہ بات کیسے سمجھائی جائے محبت کرنے کے لئے پیڑ جتنا دل چاہیے مگر محبت کی اشتہاری مہم چلانے والے کلہاڑی سے بھی چھوٹا دل رکهتے ہیں جست زندگی کی طرف ہو یا موت کی طرف ایک با معنی سرگرمی ہے کیڑوں کی طرح رینگنے کی تبلیغ کرنا حماقت ہے پرندے ہمارا دکھ بانٹ سکتے ہیں یہ بات دکھ دینے والے جانتے ہیں اسی لیے پرندوں…
Read Moreکاشف مجید ۔۔۔ زندہ رہنے کا جو پیمان کیا ہے میں نے
زندہ رہنے کا جو پیمان کیا ہے میں نے سر بسر اپنا ہی نقصان کیا ہے میں نے شعر کہتے ہوئے اک اشک نکل آیا تھا اس کو بھی داخلِ دیوان کیا ہے میں نے مجھ کو دکھ ہے مرے معبود ترے ہوتے ہوے اپنی تنہائی کا اعلان کیا ہے میں نے پیڑ کا سایہ مجھے اپنی طرف کھینچتا تھا تیری دیوار پہ احسان کیا ہے میں نے وہ تماشا کیا میں نے جو اسے کرنا تھا آج تو آگ کو حیران کیا ہے میں نے
Read Moreنعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ۔۔۔ حماد نیازی
اے !زہے قسمت اجازت ہو اگر تو جائیں ہم اس گلی کی گرد لے کر داغ سب دھو جائیں ہم اے! زہے قسمت یہ خستہ تن اٹھا کر دشت میں ان کے نقش پا کی خاطر در بدر ہو جائیں ہم اے! زہے قسمت نین میں جی اٹھے اشکوں کی لو شوق نظارہ میں جتنا رو سکیں رو جائیں ہم اے !زہے قسمت وہ دیکھیں مسکرا کے اس طرف اور اس حیرت میں خود کو خاک میں بو جائیں ہم اے! زہے قسمت بدن سے روح کی ہجرت سمے وہ…
Read Moreحماد نیازی… زخم کو ہم پھول کی ہیئت میں لا سکتے نہیں
زخم کو ہم پھول کی ہیئت میں لا سکتے نہیں بے بسی کی شکل ایسی ہے چھپا سکتے نہیں خود تلک آتے ہیں تیرے راستوں سے ہو کے ہم اور پھر خود سے تری جانب بھی جا سکتے نہیں بے بسی اور بے یقینی سے بھرے بے نور دن رات کی تصویر کو روشن بنا سکتے نہیں جسم کی بیزار سطروں پر لکھا جاتا ہے کیا جانتے ہیں ہم مگر خود کو بتا سکتے نہیں باپ کا بوسہ لہو میں تیرتا ہے اور ہم لمسِ دیرینہ کی حسرت کو مٹا…
Read Moreحماد نیازی ۔۔۔ رُکے ہوئے وقت کی نظم
رُکے ہوئے وقت کی نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہانی وقت کی بیزار سطریں لکھ رہی ہے اور” سمے دھیرے چلو، دھیرے چلو” کی اک صدا سینے کے ریگستان میں ماتم گزیدہ سر بریدہ خواہشوں سے ہمکلامی کر رہی ہے ازل کی پہلی الماری میں بوسیدہ پڑے کچھ لفظ اپنے سب مقرر اور پوشیدہ معانی کھو چکے ہیں ہوس آلود باغوں کا قدیمی پھل سمے کی گود میں گل سڑ چکا ہے اور اس سے اب سڑاند آنے لگی ہے یہ دل ….. وحشت زدہ دل، ماتمی گریہ کناں اور مضطرب سے اک…
Read Moreحماد نیازی
ویرانی کی گرد چھٹے اور تو آئے تو آئے اور ایک نئی ویرانی ہو
Read Moreمحمد سلیم ساگر
اب تو بے رنگ اداسی ہے مری آنکھوں میں ماں بتاتی ہے میں رنگوں سے بہت کھیلتا تھا
Read Moreمحمد سلیم ساگر ۔۔۔ تلاش
تلاش ۔۔۔۔۔ تجھے کس خدا کی تلاش ہے یہاں اور کوئی خدا نہیں وہی ایک ہے مجھے آج تک جو ملا نہیں جو ندیم ہے جو کریم ہے جو علیم ہے جو بصیر ہے جو خبیر ہے جو قدیر ہے جسے اُس کے حجرہِ خاص کے سبھی رُکن چھُو کے سُنا دیا ترا نام لے کے بتا دیا جسے کہہ دیا کوئی ایک لمس نہ ایسا ہو جو مرے بدن کا ملال ہو مجھے تیری دید عطا کرے جو مری نظر پہ حلال ہو وہ جو ربِ ہجر و وصال…
Read Moreمحمد سلیم ساگر … دل کے مندر میں سجاتے تری پوجا کرتے
دل کے مندر میں سجاتے تری پوجا کرتے تیری خواہش تھی تو کہتا تجھے سجدہ کرتے ہم نہ ہوتے تو کوئی اور محبت کرتا تُو نہ ہوتا بھی تو ہم تیری تمنا کرتے اب تجھے روز نہ سوچوں تو بدن ٹوٹتا ہے عمر گزری ہے تری یاد کا نشہ کرتے تیرے دیدار کے لمحات بہت قیمتی تھے ہم اگر آنکھ جھپکتے تو خسارا کرتے جانے والوں کو صدائیں نہیں دیتے ساگر اشک واپس نہیں آنکھوں میں سمایا کرتے
Read More