کاشف مجید ۔۔۔ مجھے ہے جینے کا آزار سانس لیتا ہوں

مجھے ہے جینے کا آزار سانس لیتا ہوں کبھی کبھی تو لگاتار سانس کتا ہوں عجب نہیں اسی کوشش میں زندگی مل جائے میں ایسا کرتا ہوں اک بار سانس لیتا ہوں درختوں اور پرندوں کے ساتھ یاری ہے سو حمد کرتا ہوں ہموار سانس لیتا ہوں بہت دنوں سے نہ گریہ کیا نہ رقص کیا بہت دنوں سے میں بیکار سانس لیتا ہوں اندھیرا موت ہے اور موت بھی بھیانک موت چراغ کا ہوں طرف دار سانس لیتا ہوں

Read More

کاشف مجید ۔۔۔ دہکتی آگ کو جب خاک پر اتارا گیا

دہکتی آگ کو جب خاک پر اتارا گیا ہمیں پکارا گیا اور بہت پکارا گیا ہمارا اور تمہارا ملال ایک سا ہے اِدھر چراغ بجھا اور اُدھر ستارا گیا بہت خلوص سے تونے عطا کیا تھا جو وہ ایک خواب بھی مجھ سے نہیں گزارا گیا عجیب جنگ یہاں پر لڑی گئی جس میں نہ کوئی زندہ بچا اور نہ کوئی مارا گیا مجھے خبر ہے وہ میری طرف بھی دیکھتا تھا مجھے خبر ہے مگر میں نہیں دوبارا گیا

Read More

کاشف مجید ۔۔۔ کب اپنے ہونے کا اظہار کرنے آتی ہے

کب اپنے ہونے کا اظہار کرنے آتی ہےیہ آگ مجھ کو نمودار کرنے آتی ہےمیں دن میں خواب بناتا ہوں رنگ رنگ کے خوابمگر یہ رات انہیں مسمار کرنے آتی ہےاندھیرا جاتا ہے جب بھی الٹ پلٹ کے مجھےتو روشنی مجھے ہموار کرنے آتی ہےہوائے کوچہِ دنیا ۔۔میں جانتا ہوں تجھےتو جب بھی آتی ہے بیمار کرنے آتی ہےجو دل سے ہوتی ہوی آ رہی ہے میری طرفیہ لہر مجھ کو خبردار کرنے آتی ہے

Read More

کاشف مجید ۔۔۔ نظم زندگی کو واپس لا سکتی ہے

نظم زندگی کو واپس لا سکتی ہے ایک خواب سے رات کا راستہ روکا جا سکتا ہے خواب کو ممنوع قرار دینے والوں کو یہ بات کیسے سمجھائی جائے محبت کرنے کے لئے پیڑ جتنا دل چاہیے مگر محبت کی اشتہاری مہم چلانے والے کلہاڑی سے بھی چھوٹا دل رکهتے ہیں جست زندگی کی طرف ہو یا موت کی طرف ایک با معنی سرگرمی ہے کیڑوں کی طرح رینگنے کی تبلیغ کرنا حماقت ہے پرندے ہمارا دکھ بانٹ سکتے ہیں یہ بات دکھ دینے والے جانتے ہیں اسی لیے پرندوں…

Read More

کاشف مجید ۔۔۔ زندہ رہنے کا جو پیمان کیا ہے میں نے

زندہ رہنے کا جو پیمان کیا ہے میں نے سر بسر اپنا ہی نقصان کیا ہے میں نے شعر کہتے ہوئے اک اشک نکل آیا تھا اس کو بھی داخلِ دیوان کیا ہے میں نے مجھ کو دکھ ہے مرے معبود ترے ہوتے ہوے اپنی تنہائی کا اعلان کیا ہے میں نے پیڑ کا سایہ مجھے اپنی طرف کھینچتا تھا تیری دیوار پہ احسان کیا ہے میں نے وہ تماشا کیا میں نے جو اسے کرنا تھا آج تو آگ کو حیران کیا ہے میں نے

Read More