شعاعیں منچندا بانی (م ۱۹۸۱ء) کی وفات کے پینتیس سال بعد ’’فانوس‘‘ کی یہ خصوصی اشاعت اس کی باعظمت شاعرانہ حیثیت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک ادنی کوشش ہے۔بانی پر اس خصوصی اشاعت کے اداریے کا آغاز ہم معروف افسانہ نگار، شاعر و نقاد جناب عباس رضوی کے اس اقتباس سے کرتے ہیں جو انھوں نے ’’ولے شعلۂ مستعجل بود — احمد زاہد‘‘ کے عنوان سے عمدہ لب و لہجہ کے ایک شاعر احمد زاہد (مرحوم) کی شاعری کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے: ’’ہم سب نے ایسے…
Read MoreMonth: 2022 جون
اکرم کنجاہی ۔۔۔ نسائی فکشن کا ارتقا
نسائی فکشن کا ارتقا داستان، ناول اور افسانہ کہانی کی مختلف شکلیں ہیں، فکری و اسلوبیاتی حوالے سے جن کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں۔طلسماتی فضائیں تشکیل دینے،فوق الفطر ت اور محیر العقل قصے بیان کرنے میں داستان کا ثانی نہیں۔ناول ہمارے ماحول اور معاشرت سے جڑا ہوا ہے۔ وہ جنوں کے بادشاہ، پریوں کے دیس، شہزادوں اور شہزادیوں کی رومانی داستانیں بیان نہیں کرتا بل کہ ہماری اور ہماری عہد کی زندگی کے مثبت و منفی پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔افسانہ وحدتِ تاثر کی حامل مختصر کہانی ہے جو ناول…
Read MoreDream Ending in a Host of Angels Zipping Me into My Grandmother’s Dress by Bradley Trumpfheller
Once & could-be-future girl, believe we’re not like you. Sure, the pickup was tucked in dusk, shed all carefree w/ its sunburn shimmer. Still nothing new to say about the creek, how reeds get moony, or when we saw pelicans hold hands & gossip. But y’all must wanna get this close to soft, so here goes: spool heels, silver sleeves w/ pink accents, kind to stifle the trailer static, same color Dot says Granny passed in. Past since good & we did keep her pearls for you, kissed the hems…
Read Moreگوپی چند نارنگ ۔۔۔ نئی غزل کا جوانامرگ شاعر: بانی
نئی غزل کا جوانامرگ شاعر: بانی کسے معلوم تھا کہ نئی غزل کا طرح دار اور تازہ گو شاعر بانی اتنی جلدی موت کی آغوش میں چلا جائے گا۔ اکتوبر ۱۹۸۱ ء کی شب میں دہلی کے ہولی فیملی ہسپتال میں بانی نے سفرِ آخرت اختیار کیا۔ اب جب کہ بانی اس دنیا میں نہیں ہے، چند سوانحی شخصی حقائق کو محفوظ کر دنیا ضروری معلوم ہوتا ہے، بانی کاپورا نام، راجیندر منچندا تھا۔ وہ نومبر ۱۹۳۲ء میں ملتان میں پیدا ہوئے اور ان لوگوں میں سے تھے جنھیں تقسیم…
Read MoreAshglory by Paul Celan
Ashglory behind your shaken-knotted hands at the threeway. Pontic erstwhile: here, a drop, on the drowned rudder blade, deep in the petrified oath, it roars up. (On the vertical breathrope, in those days, higher than above, between two painknots, while the glossy Tatarmoon climbed up to us, I dug myself into you and into you.) Ash- glory behind you threeway hands. The cast-in-front-of-you, from the East, terrible. No one bears witness for the witness.
Read Moreجوش ملیح آبادی
میرے رونے کا جس میں قصہ ہے عمر کا بہترین حصہ ہے
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ تو بے سبب ہے مری ذات سے خفا‘ کچھ سوچ
تو بے سبب ہے مری ذات سے خفا‘ کچھ سوچ ہے اس خرابے میں دل کس کا آئنہ‘ کچھ سوچ دماغ پر ہے مسلّط سکوت سا کچھ‘ سوچ ہے شام ہی سے یہ دل کیوں بجھا بجھا‘ کچھ سوچ خفا نہ ہو کہ کڑی دوپہر میں آیا ہوں میں تنہا کیسے یہ لمحے گزارتا‘ کچھ سوچ تھا جس کی لو سے منور یہ خواہشوں کا مکاں وہ اک چراغ بھی تو نے بجھا دیا‘ کچھ سوچ یہ اجتناب‘ یہ خط فاصلے کا کیسے کھنچا وہ جذبہ ختم بھلا کیسے ہو…
Read Moreعزیز اعجاز
سفر تمام ہوا، آخری پڑاؤ ہے بچھڑنے والے! ترا نام پوچھ سکتا ہوں
Read Moreزیب النسا زیبی ۔۔۔ دو غزلیں
تتلی کے پر و بال بنانے میں لگی ہوں جگنو کو نئی راہ دکھانے میں لگی ہوں وہ ہیں کہ پرندوں کو بھی جینے نہیں دیتے میں ہوں کہ فقط پیڑ اگانے میں لگی ہوں اب تک تو تجھےدل سے اتارا نہیں میں نے اب تک میں ترا،ہجر منانے میں لگی ہوں کیا میں بھی تری آنکھ کاپتھر ہوں بتا یہ کیا میں بھی ترے خواب مٹانے میں لگی ہوں غم پہ مجھے رونا نہیں آتا ہےبہت دیر خوشیاں میں ترے جگ سے چُرانے میں لگی ہوں تاروں سے محبت…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی
جائیں جنت کو سب قرینے سے راستہ مل گیا مدینے سے رازِ ہستی ہے منکشف اس پر کھوجتا ہے جو اس دفینے سے جو بھی آئے،وہ جھولیاں بھر لے سب کو ملتا ہے اس خزینے سے ماہِ میلاد کر گیا فرخ سب مہینے ہیں اس مہینے سے آپ کو بھول کر رہیں زندہ موت آ جائے ایسے جینے سے لاکھ طوفاں ہوں درپئے آزار پار اتریں گے اس سفینے سے جو ہے خوشبو ریاض کلیوں میں ہے وہ سب آپؐ کے پسینے سے
Read More