راجہ عبدالقیوم ۔۔۔ خواب در خواب

چل رہی ہے بڑے انداز سے آہستہ خرام لگ رہا ہے ترے کوچے سے صبا آئی ہے یوں مہک اُٹھا ہے گھر کا مرے گوشہ گوشہ جیسے اُٹھ کر ترے پہلو سے بہار آئی ہے پھول چن کر ترے پہلو سے ابھی لائی ہے کس نے دیکھا ہے کہ تارے بھی چمک اُٹھے ہیں چاند بھی جیسے سرِ بام اُتر آیا ہے ایک منظر جو تہہِ خواب تھا آسودہ کہیں اب حقیقت کی طرح مجھ کو نظر آیا ہے خواب در خواب پسِ عکس جو منظر ابھرے لاکھ چاہوں بھی…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ اعجاز دانش

میں خوابِ نور سے بیدار ہو کے آیا ہوں نبیؐ کے عشق سے سر شار ہو کے آیا ہوں ہو انؐ کی محفلِ میلاد کا بیاں کیسے میں گویا آپؐ کے دربار ہو کے آیا ہوں حضورؐ ! دامنِ رحمت میں ڈھانپ لیں مجھ کو جہان والوں سے بیزار ہو کے آیا ہوں خدا کا شکر ہے میں خاکدان ہستی پر غلامِ سیدِ ابرار ہو کے آیا ہوں یہ انؐ کی نعت کا اعجاز ہی تو ہے دانش میں آج صاحبِ گفتار ہو کے آیا ہوں

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ کچھ کام نہ آئے گی اب عکس گری اپنی

کچھ کام نہ آئے گی اب عکس گری اپنی توڑے گی سب آئینے آشفتہ سری اپنی پت جھڑ کے تسلّط کو تسلیم نہیں کرتے شاخوں پہ سجا کر بھی ہم بے ثمری اپنی گھر جانے کی خواہش میں یہ خوف بھی لاحق ہے لے جائے کہاں جانے پھر در بدری اپنی آئینہ مقابل ہو اور دیکھ لیں ہم تُجھ کو حائل ہے ابھی اِس میں کچھ کم نظری اپنی اس واسطے کرتے ہیں ہم عام ہُنر اپنے کھُل جائے نہ دُنیا پر ہر بے ہُنری اپنی آیا ہے وہی پہلے…

Read More

طاہر منیر طاہر ۔۔۔ تماشا لگا ہے دلالت کیے جا

تماشا لگا ہے دلالت کیے جا سیاست ، حراست ، وکالت کیے جا پتہ ہے تجھے کچھ مرے حالِ دل کا تو ہجراں میں یارا طوالت کیے جا یہ گھاؤ ترے ہیں جگر بھی ترا ہے بڑے شوق سے تو کفالت کیے جا یہ دستِ طلب جب ترے ہاتھ میں ہے تو چاہے جہاں تک ذلالت کیے جا ستا تو، جلا تو، جلا کر ستا تو ستم گر! ستم میں جہالت کیے جا تری زندگانی کا مقصد یہی ہے محبت محبت محبت کیے جا بتوں سے سروکار کیا تجھ کو…

Read More

واصف سجاد ۔۔۔ اسیر یونہی نہیں سب مری فغاں کے ہیں

اسیر یونہی نہیں سب مری فغاں کے ہیں سنا رہا ہوں جو دکھڑے اسی جہاں کے ہیں مرا سکوت نہیں بے سبب مرے بھائی! کہ زخم کھا ئے ہیں جتنے سبھی زباں کے ہیں یہ آنکھ ہوتی نہیں منظروں سے کیوں مانوس یہ ارد گرد مرے لوگ سب کہاں کے ہیں کمال حوصلہ درکار ہے بلا کا ضبط گزر رہے ہیں جو لمحات امتحاں کے ہیں دکھائی دیتا ہے جو چار سو حقیقت ہے کہ انتشار میں اوراق داستاں کے ہیں یہ خستگی در و دیوار کی بتاتی ہے مکیں…

Read More