ناصر علی سیّد ۔۔۔ لکھی نصیب میں تھی در بہ در کی بے چینی

لکھی نصیب میں تھی در بہ در کی بے چینی سو زندگی نہیں ، میں نے بسر کی بے چینی میں آنسوؤں کو تبسّم میں ڈھال لیتا ہوں کھلے گی کس پہ مری چشم ِ تر کی بے چینی اگرچہ ایک ہی کمرہ ہے میرے حصّے میں مجھے ملی ہے مگر سارے گھر کی بے چینی پلٹ کے آ یا تو بچوں نے اجنبی جا نا جمی تھی چہرے پہ ایسی سفر کی بے چینی یہ کل کی بات ہے جب صبح آئنہ دیکھا تو شام تک چلی آ ئی…

Read More

ارسلان ساحل ۔۔۔ جانے کیا سرزد ہوئی آخر خطا، ناراض ہے

جانے کیا سرزد ہوئی آخر خطا، ناراض ہے ایک مدت ہوگئی ہم سے خدا ناراض ہے دل بھی شاید ہے کوئی اجڑا ہوا ایسا نگر ظلمتیں جس کا مقدر ہیں، ضیا ناراض ہے تم جو بچھڑے شہر کی رونق ہوئی خواب ِاجل چار سو شام و سحر آب و ہوا ناراض ہے وہ جوکرتے ہیں مسلماں ہوکے بھی کا رِیزید ان درندوں سے مرے رب کی رضا ناراض ہے ہاتھ کو میرے جھٹک کے چل دیا سایہ مرا میں ابھی یہ پوچھنے والا ہی تھا، ناراض ہے؟ رک نہ جائیں…

Read More

معظمہ نقوی ۔۔۔ اَمن سانچے میں اُس نے ڈھالا ہے

اَمن سانچے میں اُس نے ڈھالا ہے جس نے ہر اک بلا کو ٹالا ہے دل سنبھالے نہیں سنبھلتا تھا اُس نے کیا خوب دل سنبھالا ہے چین کس طرح مل سکے گا تمہیں تم نے خود خواہشوں کو پالا ہے کیسی جمہوریت ہے یہ آخر دیکھو ہر اک زباں پہ تالا ہے سچ تو اب سر نِگوں ہُوا نقوی جھوٹ کا اتنا بول بالا ہے

Read More

ریاض ندیم نیازی ۔۔۔ کچھ اُس سے گفتگو کرنے کی تیاری نہیں کرنی

کچھ اُس سے گفتگو کرنے کی تیاری نہیں کرنی کہ دانستہ کوئی بھی کیفیت طاری نہیں کرنی ’’محبت کی کہانی میں اداکاری نہیں کرنی‘‘ کہ ہرگز بات کوئی غیرمعیاری نہیں کرنی تماشا دیکھنے کو آئے ہیں ہم تو دکانوں کا ہمیں بازار سے کوئی خریداری نہیں کرنی جہاں تک ہو سکے محفوظ رکھنا ہے بھرم اپنا کہ اپنے ہاتھ سے پامال خودداری نہیں کرنی محبت کے سبھی اسباق ازبر ہیں ہمیں یارو برائے امتحاں کوئی بھی تیاری نہیں کرنی زبان و لفظ پر رکھنا بہ ہر صورت گرفت اپنی کہ…

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ ’’آفتاب آمد دلیلِ آفتاب‘‘ ( نعتیہ نظم)

جِس کے لئے زمین دلیل،آسماں دلیل جس کے لئے ہوئے ہیں یہ کون و مکاں دلیل جس کے لئے ہیں بحر کی گہرائیاں دلیل جس کے لئے پہاڑوں کی اونچائیاں دلیل صحرا میں جس کے فیض کی زرخیزیاں دلیل گلپوش پیڑ اور حسیں وادیاں دلیل جس کی گواہ بحر کی سب بے کرانیاں چشموںسے پھوٹتا ہؤا آبِ رواں دلیل یثرب تھا جو ، مدینۂ طیبہ کہا گیا اُس بے مثال کے لئے ہے وہ مکاں دلیل جس کی صداقتوںکے لئے وقف ہر یقیں ہر اعتقاد جس کے لئے بے گماں…

Read More

عنبرین خان ۔۔۔ کہاں کسی کی محبت بھی ڈھونڈتی مجھ کو

کہاں کسی کی محبت بھی ڈھونڈتی مجھ کو شناخت اپنی بھی جیسے نہیں رہی مجھ کو کہیں پہنچنا تھا اس شام لازمی اس نے گھڑی دکھاتا رہا تھا ، گھڑی گھڑی مجھ کو پھسلتا جاتا تھا وہ ہاتھ میرے شانوں سے قریب کر کے سکھاتا تھا شاعری مجھ کو کلائی اس نے دبائی ہوئی تھی ہاتھوں میں ضروری پیار کی لگتی تھی ، ہتھ کڑی مجھ کو نظر میں اس کی ذرا دیر دیکھتی رہی میں ہر ایک سمت نظر آئی روشنی مجھ کو یقیں کریں کہ وہ اک علم…

Read More

افتخار شاہد ۔۔۔ درد کچھ اور بڑھا آپ کے آ جانے سے

درد کچھ اور بڑھا آپ کے آ جانے سے ہم کو رخصت نہ ملی اب بھی شفاخانے سے ایک مدت مَیں ترے لمس کی شدت میں رہا چھو گیا ہاتھ ترے ہاتھ کے دستانے سے اس نے بھی طرزِ تکلم کو سنبھالے رکھا میں بھی ڈرتا ہی رہا بات کے بڑھ جانے سے ورنہ میں ہاتھ پہ کرنے ہی لگا تھا بوسہ خواب ٹوٹا ہے مگر آپ کے گھبرانے سے ٹھوکریں کھا کے بھی پلٹیں تو غنیمت جانو کون سمجھا ہے یہاں بات کے سمجھانے سے ہم کو حاجت ہی…

Read More

The Two Scholars

Once upon a time there were two scholars. One was named Liu Tschen and the other Yuan Dschau. Both were young and handsome. One spring day they went together into the hills of Tian Tai to gather curative herbs. There they came to a little valley where peach-trees blossomed luxuriantly on either side. In the middle of the valley was a cave, where two maidens stood under the blossoming trees, one of them clad in red garments, the other in green. And they were beautiful beyond all telling. They beckoned…

Read More

A Legend of Confucius

when Confucius came to the earth, the Kilin, that strange beast which is the prince of all four-footed animals, and only appears when there is a great man on earth, sought the child and spat out a jade whereon was written: “Son of the Water crystal you are destined to become an uncrowned king!” And Confucius grew up, studied diligently, learned wisdom and came to be a saint. He did much good on earth, and ever since his death has been reverenced as the greatest of teachers and masters. He…

Read More