ہنستے چہرے پہ بھی قرار نہیں اسطرح زندگی گزار نہیں تو نے ہر بار جھوٹ بولا ہے تیری باتوں کا اعتبار نہیں تو یہاں وقت پاس کرتا ہے مجھ کو معلوم ہے: یہ پیار نہیں تیرا ہر سال اک کہانی ہے میرا لمحوں میں بھی شمار نہیں میں پسِ بام دیکھ سکتا ہوں صرف آنکھوں پہ انحصار نہیں تیری آنکھوں میں ہو بھی سکتا ہے میرے چہرے پہ تو غبار نہیں تو مجھے کب کا بھول بیٹھا ہے اور مجھے تیرا انتظار نہیں زندگی سے فرار ممکن ہے ہجر کی…
Read MoreMonth: 2022 دسمبر
شبہ طراز ۔۔۔ دو غزلیں
دیے جلاتے ہوئے راستہ دکھاتے ہوئے میں چل رہی تھی کسی طور گُنگناتے ہوئے سُنا ہے تُو بھی اسی شہر میں ہے مدّت سے کبھی تو مِل انہی راہوں پہ آتے جاتے ہوئے گزر ہی جاتا ہے یہ وقت رات ہو یا سحر کہا فلک سے ستاروں نے ٹمٹماتے ہوئے جو دل دیا تھا مجھے دسترس بھی دے دیتا تُو سوچتا تو سہی آرزو جگاتے ہوئے کہاں سے خاک اُٹھائی تھی میری، کوزہ گرا نمی تھی آنکھ میں تیری مجھے بناتے ہوئے ہر ایک باب میں اک درد ہانٹ کرتا…
Read Moreکوکی گل ۔۔۔ آ گئی آب و تاب کانٹوں میں
آ گئی آب و تاب کانٹوں میں گل پڑے بے حجاب کانٹوں میں پتی پتی بکھر نہ جائے کہیں پھنس گیا ہے گلاب کانٹوں میں مفلسی نے اڑائے رنگ و بو جیسے گزرا شباب کانٹوں میں رات بھر پھول اوس سے بھیگے صبح ٹپکی شراب کانٹوں میں اشک پلکوں سے یوں گرے کوکی! اٹھ رہے تھے حباب کانٹوں میں
Read Moreمحمد انیس انصاری ۔۔۔ ہے وہی مزاجِ سِتم گراں ، لب ِ مہرباں نہیں کھولنا
ہے وہی مزاجِ سِتم گراں ، لب ِ مہرباں نہیں کھولنا ابھی آندھیاں بڑی تیز ہیں ، ابھی کھڑکیاں نہیں کھولنا میں ہتھیلیوں پہ دکھائی دیتا رہوں گا تجھ کو ، مگر مجھے کوئی اور ڈھونڈنے آئے بھی تو ہتھیلیاں نہیں کھولنا جنھیں شہرِ آب عزیز تھا ، و سفر نصیب چلے گئے کوئی ساحلوں پہ پکارتا رہا ، کشتیاں نہیں کھولنا! یہ غمِ جہاں کی اَذیتیں تو میں جھیل لوںگا کسی طرح مرے ہم سخن ! کہیں بیچ میں غمِ دوستاں نہیں کھولنا یہ جو چار دن مرے پاس…
Read Moreخالد احمد
خوبیاں ناقدِ فن کیوں دیکھے دشت کی آنکھ چمن کیوں دیکھے
Read Moreرخسانہ سمن ۔۔۔ بے عمل زمانے میں تیرگی بہانہ ہے
بے عمل زمانے میں تیرگی بہانہ ہے سب دیے بجھا دیجے آفتاب لانا ہے تم نہیں ہو چارہ گر، زخم کیوں دکھائیں ہم یاس کے پہاڑوں کو دردِ دل سنانا ہے کس کی آرزو ہو تم، کس کی جستجو ہیں ہم بات تو ذرا سی ہے، طعنہ زن زمانہ ہے واعظا! خدا لگتی گر کوئی کہے تو سُن تیری بات مبہم ہے، گفتگو فسانہ ہے عشق اور وحشت میں فرق ہے فقط اتنا وحشتوں کے تیروں کا عشق ہی نشانہ ہے
Read Moreخالد احمد
پھر وہی مہرباں ہوا آئی اے مری بے چراغ تنہائی
Read Moreشہزاد احمد شاذ ۔۔۔ زندگی کے سراب سے نکلے
زندگی کے سراب سے نکلے حالت ِ اضطراب سے نکلے ہم نے اس کو بھلا دیا دل سے پھول کچھ پھر کتاب سے نکلے ہم تلاشِ وفا میں نکلے تھے پھر نہ پاؤں رکاب سے نکلے شیخ! پا لے خدا کی ہستی کو گر گناہ و ثواب سے نکلے وہ کسی ایک کا جو ہو جائے شہر بھی اضطراب سے نکلے اسے کھویا تو لاکھ اندیشے دلِ خانہ خراب سے نکلے
Read Moreثمینہ سید ۔۔۔ جو بھاگ دوڑ کے ہم زندگی گزارتے ہیں
جو بھاگ دوڑ کے ہم زندگی گزارتے ہیں سفالِ جسم میں بس اک تھکن اتارتے ہیں یہ مشکلات کا سیلِ بلا ہے چاروں طرف ہمارے جیسے تو بس ہاتھ پاؤں مارتے ہیں ترا خیال ہمیں چھو کے جب گزرتا ہے وجود کو بڑی مشکل سے ہم سہارتے ہیں جب آئنہ کوئی ہوتا نہیں میسر تو تمھارا چہرہ خیالوں میں ہم ابھارتے ہیں تجھے بتا نہیں سکتے یہی تو مشکل ہے تری تمنا میں ہم خود کو کیسے مارتے ہیں جو ریزہ ریزہ دلِ زار ہونے لگتا ہے کسی کے دستِ…
Read Moreاُم حبیبہ ۔۔۔۔ بوڑھے پیر کی کہانی (نثری نظم)
بوڑھے پیر کی کہانی (نثری نظم) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تخیل کی اڑان میں تصورات محوِ رقص ہیں خاکی صحراوؤں کی گزر گاہیں کتنی دلکش ہیں کہ ان کے مبہم راستے فریبِ امید ہیں جیسے دور کسی خزاں کی بھینٹ چڑھتا بے برگ پیڑ جس کی سرد چھاؤں میں آس کی ضعیفہ جس کے بالوں میں چاندنی اتر آئی ہے کسی پرانی عمارت کی عکاس ہے ہوا میں سانحے ہونے سے قبل وہ اکلوتا چراغ جو ہم نے بوسیدہ کمرے کی شیلف پہ سجا کے رکھا ہے اس کی لو کی آہٹوں میں…
Read More