فخر عباس ۔۔۔ اُسے بھی، جو غیروں کو چاہت میں رکھے

اُسے بھی، جو غیروں کو چاہت میں رکھے خدا سب کو اپنی حفاظت میں رکھے کلاسیکی میں نے ادب پڑھ رکھا ہے یہی بات مجھ کو سہولت میں رکھے مرا رزق اُس نے جو قسمت کیا ہے وہ کچھ اس کا حصہ قیامت میں رکھے کہیں ہم محبت پہ قائل نہ کر لیں ہمیں اس لئے وہ عداوت میں رکھے خدایا! سدا اس کو محتاج رکھنا ہمیں یاد جب وہ ضرورت میں رکھے

Read More

امجد اسلام امجد ۔۔۔ منظر کیسے بدل سکے!

منظر کیسے بدل سکے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے اِرد گرد اور قدم قدم پہ نت نئے ، سوال ہی سوال ہیں کہ جن کا شجرۂ نسب ہے دُور تک رواں دواں اُس ایک پَل کی موج میں کہ جس میں ایک جا ہوئیں زماں مکاں کی وسعتیں اور اُس کے بعد چل پڑا یہ اجنبی سا سلسلہ ، سوال اور خیال کا فروغِ زخم جستجو اور اس کے اندمال کا گئی رُتوں کی کھڑکیوں سے جھانکتے ملال کا ابھی کسی سوال کا جواب ڈھونڈنے پہ ہم نہ لے سکے تھے اک سکوں…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ اپنے جیسی ایک مثال

اپنے جیسی ایک مثال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوا جب رقص کرتی ہے نئے موسم کی بانہوں میں تو پیڑوں اور بیلوں کی تھکن سے چور آنکھیں بھی نئے پتوں، شگوفوں کے سہانے خواب سے بوجھل خزاں کے زرد بستر سے بہارِ سرخ کی جانب لہو کے گرم دھارے میں عجب اِک کیف میں لرزاں بہت تیزی سے بہتی ہیں مگر خاموش رہتی ہیں

Read More

حامدؔ یزدانی … خود۔جزیرہ رات کاآخری مشورہ

خود۔جزیرہ رات کاآخری مشورہ …………………… بس اب بھاگنابند کرو کیارات ہے! نوکیلے تاروں میں الجھا تاج نما اک چاند ہے اوربے رنگ۔۔۔ کہ پل پل رنگ بدلتا اک ہالہ ہے! رک جاؤ اب رک جاؤ بھاگنے سے کیا فاصلے کم ہو جائیں گے؟ سچ مانو، تم تھک ٹوٹ چکے ہو بریف کیس کو تھامے ایسے بھاگتے بھاگتے، ہانپتے ہانپتے یہیں، یہیں، بس یہیں رُکو اس مین ہول کا ڈھکن کھینچو ہاتھ میں تھامے بریف کیس کو اندر پھینکو وہ بے رنگ۔۔۔ کہ پل پل رنگ بدلتا ہالہ نیم غنودہ ہے…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ چٹکتی یاد، گئی رات کی، پڑی ہوئی ہے

چٹکتی یاد، گئی رات کی، پڑی ہوئی ہے اُداس صحن میں کچھ چاندنی پڑی ہوئی ہے جو چاہیے جسے لے جائے راستے کے لیے یہاں اندھیرا، وہاں روشنی پڑی ہوئی ہے ٹھہر تو جاؤں سرِ مرگ دوگھڑی میں بھی مگر جو پیچھے مِرے زندگی پڑی ہوئی ہے! نہ مسکراؤ، چلو دھوپ کی دعا دے دو بہت دنوں سے اِدھر رات سی پڑی ہوئی ہے ابھی ابھی کوئی شاید اُٹھا ہے پڑھتے ہوئے کتابِ رفتہ کہ حامدؔ کُھلی پڑی ہوئی ہے

Read More