قمر رضا شہزاد ۔۔۔ کسی کی پھینکی کسی شخص کی اٹھائی ہوئی

کسی کی پھینکی کسی شخص کی اٹھائی ہوئی یہ کائنات کہ ہڈی کوئی چبائی ہوئی کسی کا نام مرے ہونٹ پر لرزتا ہوا کسی کی شکل مرے حافظے میں آئی ہوئی یہ زندگی کوئی لپٹا ہوا گلے کے ساتھ یہ موت انگلی کسی ہاتھ سے چھڑائی ہوئی بتارہی ہے میں کس شان سے محاذ پہ ہوں مرے لہو میں یہ پگڑی مری نہائی ہوئی میں اپنے بعد اسی طرح یاد آؤں گا کہ جیسے کوئی کہانی سنی سنائی ہوئی تمام لوگ نکل جائیں میرے حجرے سے میں تھک چکا ہوں…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ باغِ جمالِ یار ہے کل سے غضب کِھلا ہُوا

باغِ جمالِ یار ہے کل سے غضب کِھلا ہُوا آنکھیں مُندی مُندی ہوئیں،غنچۂ لب کِھلا ہُوا آئی ہے لالہ زار سے ایک عجیب سی مہک یعنی غیاب میں کہیں توُ بھی ہے اب کِھلا ہُوا کوئی چراغ کھینچ کر لائے گی اُونگھتی کرن اور نویدِ صبح ہے غُرفۂ شب کِھلا ہُوا کاش میں یاد کر سکوں دل سےجُڑے معاملات پایا تھا کب بُجھا ہوا،دیکھا تھا کب کِھلا ہُوا موجِ طرب نے کر دیا شہرِ الم کو باغ باغ رات کی بات اور تھی،اب تو ہے سب کِھلا ہُوا صحنِ چمن…

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ اُس کی تقویم میں کچھ دخل ہمارا کیا ہے

اُس کی تقویم میں کچھ دخل ہمارا کیا ہے ایک لمحے کی بھی ترمیم کا یارا کیا ہے ٹکٹکی باندھ رکھی ہے تری چلمن کی طرف مجتمع ہوں کہ بکھر جائیں اشارہ کیا ہے جو تری موجِ محبت میں رواں ہوں اُن کو شامِ گرداب ہے کیا، صبحِ کنارا کیا ہے دل کی آواز پہ چلنا ہی عبادت ہے ہمیں جاں بھی اس راہ میں جائے تو خسارا کیا ہے اب تو یوں ہے کہ یقیں سے نہیں کچھ کہہ سکتے ہمیں مطلوب ہے کیا اُس کو گوارا کیا ہے…

Read More

عبداللہ حسین کا ایک افسانہ ”سمندر“ … انیس اکرام فطرت

”یہاں سمندر فیروز کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اس وقت جہاں تم موجود ہو وہاں و قت تھم گیا ہے۔ اور ایک ایک پَل پر سے تمہارا اختیار اُٹھ گیا ہے کہ یہاں میں حکومت کرتا ہوں۔ اس لےے نہیں کہ میں لافانی ہوں اور طاقت ور ہوں اور غصیل ہوں…. اس لےے کہ جب پَل پَل پر تمہارا اختیار تھا تو تم نے ہاتھ بڑھا کر کسی تک پہنچنا ہی نہ چاہا۔ اور آخر بے اختیار ہو کر بیٹھ گئے اور اب پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ…

Read More