Month: 2023 ستمبر
زاہد خان ۔۔۔ تاریک ہے ویران ہے دل کتنا ہمارا
چراغ حسن حسرت
حسرت! کہو کہ کس سے آنکھیں لڑائیاں ہیں ہونٹوں پہ سرد آہیں، منہ پہ ہوائیاں ہیں
Read Moreچکبست برج نرائن
اک سلسلہ ہوس کا ہے انساں کی زندگی اس ایک مشت خاک کو غم دو جہاں کے ہیں
Read Moreبیدم شاہ وارثی
یہ اچھی پردہ داری ہے، یہ اچھی رازداری ہے کہ جو آئے تمہاری بزم میں دیوانہ ہو جائے
Read Moreفانی بدایونی
آنکھ اٹھائی ہی تھی کہ کھائی چوٹ بچ گئی آنکھ، دل پہ آئی چوٹ
Read Moreجوش ملسیانی
موت کے دھوکے میں ہم کیوں آ گئے زندگی کا بھی مزا جاتا رہا
Read Moreفراق گورکھپوری
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں تجھے، اے زندگی! ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
Read More