آلِ احمد سرور ۔۔۔ کچھ فراق کے بارے میں

فراق کی ایک رباعی ہے، ہر عیب سے مانا کہ جدا ہو جائے کیا ہے اگر انسان خدا ہو جائے شاعر کا تو بس کام یہ ہے ہر دل میں کچھ درد حیات اور سوا ہو جائے ہماری تنقید اب تک فنکار پر زیادہ توجہ کرتی رہی ہے، اس کے فن پر کم۔ فراق کی زندگی میں ان کی شخصیت کے نشیب وفراز کی وجہ سے ان کے فن کی پرکھ متاثر ہوتی رہی۔ اب وقت آیا ہے کہ ان کی رنگا رنگ شخصیت کے طلسم سے آزاد ہوکر ان…

Read More

فراق گورکھپوری

ہر عیب سے مانا کہ جدا ہو جائے کیا ہے اگر انسان خدا ہو جائے شاعر کا تو بس کام یہ ہے ہر دل میں کچھ درد حیات اور سوا ہو جائے

Read More

فراق گورکھپوری

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں تجھے، اے زندگی! ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

Read More

فراق گورکھپوری

اک بات کہتے کہتے کبھی رُک گیا تھا حسن وہ ماجرا، فراق! مجھے بھولتا نہیں

Read More