آلِ احمد سرور ۔۔۔ کچھ فراق کے بارے میں

فراق کی ایک رباعی ہے، ہر عیب سے مانا کہ جدا ہو جائے کیا ہے اگر انسان خدا ہو جائے شاعر کا تو بس کام یہ ہے ہر دل میں کچھ درد حیات اور سوا ہو جائے ہماری تنقید اب تک فنکار پر زیادہ توجہ کرتی رہی ہے، اس کے فن پر کم۔ فراق کی زندگی میں ان کی شخصیت کے نشیب وفراز کی وجہ سے ان کے فن کی پرکھ متاثر ہوتی رہی۔ اب وقت آیا ہے کہ ان کی رنگا رنگ شخصیت کے طلسم سے آزاد ہوکر ان…

Read More

فراق گورکھپوری

ہر عیب سے مانا کہ جدا ہو جائے کیا ہے اگر انسان خدا ہو جائے شاعر کا تو بس کام یہ ہے ہر دل میں کچھ درد حیات اور سوا ہو جائے

Read More

فراق گورکھپوری

اک بات کہتے کہتے کبھی رُک گیا تھا حسن وہ ماجرا، فراق! مجھے بھولتا نہیں

Read More

فراق گورکھپوری ۔۔۔۔۔ آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے

آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے اِک شرحِ حیات ہو گئی ہے جب دل کی وفات ہو گئی ہے ہر چیز کی رات ہو گئی ہے غم سے چُھٹ کر یہ غم ہے مجھ کو کیوں غم سے نجات ہو گئی ہے مدت سے خبر ملی نہ دل کی شاید کوئی بات ہو گئی ہے جس شے پہ نظر پڑی ہے تیری تصویرِ حیات ہو گئی ہے اب ہو مجھے دیکھیے کہاں صُبح  ان زلفوں میں رات ہو گئی ہے دل میں تجھ سے تھی جو شکایت اب غم…

Read More