سید آل احمد ۔۔۔ جرمِ اخلاص کے شعلوں کو ہوا دیتی ہے

جرمِ اخلاص کے شعلوں کو ہوا دیتی ہے جب بھی آتی ہے تری یاد رُلا دیتی ہے بیکراں وقت کی اس کوکھ میں پلتی ہوئی سوچ اک نئی صبح کی آمد کا پتہ دیتی ہے سوچتا ہوں کہ کہیں تیرے تعاقب میں نہ ہو وہ اذیت جو مری نیند اُڑا دیتی ہے تیری تصویر مرے گھر میں جو آویزاں ہے خواب کو وہم کی تعبیر دکھا دیتی ہے غرقِ گردابِ مصائب مجھے کرنے والے! موجۂ کاہشِ جاں تجھ کو دُعا دیتی ہے ذہن آسیب زدہ سوچ کا پتھر ہے تو…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ ارادہ ہے کسی جنگل میں جا رہوں گا میں

ارادہ ہے کسی جنگل میں جا رہوں گا میں تمہارا نام ہر اک پیڑ پر لکھوں گا میں ہر ایک پیڑ پہ چڑھ کے تمہیں پکاروں گا ہر ایک پیڑ کے نیچے تمہیں ملوں گا میں ہر ایک پیڑ کوئی داستاں سنائے گا سمجھ نہ پاؤں گا لیکن سنا کروں گا میں تمام رات بہاروں کے خواب دیکھوں گا گرے پڑے ہوئے پتوں پہ سو رہوں گا میں اندھیرا ہونے سے پہلے پرندے آئیں گے اجالا ہونے سے پہلے ہی جاگ اٹھوں گا میں تمہیں یقین نہ آئے تو کیا…

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔۔ ساتھ رہتے اتنی مدت ہو گئی

ساتھ رہتے اتنی مدت ہو گئی درد کو دل سے محبت ہو گئی کیا جوانی جلد رخصت ہو گئی اک چھلاوا تھی کہ چمپت ہو گئی دل کی گاہک اچھی صورت ہو گئی آنکھ ملتے ہی محبت ہو گئی فاتحہ پڑھنے وہ آئے آج کیا ٹھوکروں کی نذر تربت ہو گئی لاکھ بیماری ہے اک پرہیز مے جان جوکھوں ترک عادت ہو گئی تفرقہ ڈالا فلک نے بارہا دو دلوں میں جب محبت ہو گئی وہ گلہ سن کر ہوئے یوں منفعل عاید اپنے سر شکایت ہو گئی دوستی کیا…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ گھُٹن کی آنچ میں جب سے جلا ہے

گھُٹن کی آنچ میں جب سے جلا ہے بدن ، پیہم اُدھڑتا جا رہا ہے نگاہِ نا رسا تک پر کھُلا ہے ہمارا درد ، پیوندِ قبا ہے پہن لے دام ، لقمے کی ہوس میں پرندہ عاقبت کب دیکھتا ہے اثر ناؤ پہ جتلانے کو اپنا سمندر ، ہم پہ موجیں تانتا ہے بھنویں جس کی ، کمانوں سی تنی ہیں قرابت دار وہ ، دربار کا ہے کسی کے ذوق کی تسکین ٹھہرا ہرن کا سر ، کہیں آ کر سجا ہے دیا جھٹکا ذرا سا زلزلے نے…

Read More

نسیم سحر ۔۔۔ مَیں کیا بتاؤں کہاں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا

مَیں کیا بتاؤں کہاں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا وہاں نہیں ہوں جہاں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا سوال مجھ سے ہؤا ہے، مَیں کیوں نہیں ہوں وہاں جواب یہ ہے کہ ہاں ، مُجھ کو ہونا چاہیے تھا یہ میرے عہد کی اَرزانیوں نے ظلم کیا وگرنہ اَور گراں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا چلا تھا شوق سے جب منزلِ یقیںکی طرف وَرائے وہم و گماں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا بڑی شدید تھی خاموشی صحنِ مسجد کی وہاں بوقتِ اذاں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا قدم قدم پہ…

Read More

اقبال سروبہ ۔۔۔ میں سوچتا ہوں مگر خواب تک نہیں جاتا

میں سوچتا ہوں مگر خواب تک نہیں جاتا ابھی میں قریۂ مہتاب تک نہیں جاتا میں جانتا ہوں مرا ہم مزاج ہے دریا کسی بھی حال میں سیلاب تک نہیں جاتا وگرنہ وہ تو مجھے چھوڑ کر چلے جاتے مرا جنوں مرے احباب تک نہیں جاتا سفید پوشی میں اپنا بھرم رکھے ہوئے ہوں کبھی میں ریشم و کمخواب تک نہیں جاتا سُخن وری بھی تو اقبال رایگاں ٹھہری یہ راستہ بھی تو اسباب تک نہیں جاتا

Read More

انصر منیر ۔۔۔ چشمِ افلاک کے بے مہر ستارے آئے

چشمِ افلاک کے بے مہر ستارے آئے میرے حصے میں محبت کے خسارے آئے دشتِ ہجراں میں بھلا شوق سے آتا ہے کوئی جو بھی آئے تھے کسی زعم کے مارے آئے دل تو ویسے بھی ہے اک کارِ زیاں پر مائل پر میں کہتا ہوں کہ یہ کام تمھارے آئے مجھ پہ چلتا تو نہیں کارِ مسیحا پھر بھی گردِ احساسِ تمنا کو اتارے، آئے باپ مرتا ہے تو پھر خواب بھی مر جاتے ہیں پھر نہ معصوم سے بچے کے غبارے آئے کوئی تو ایک سہارا بھی کہیں…

Read More