مظفر حنفی ۔۔۔ مدافعت میں بھی تلوار اگر اٹھاتا ہوں

مدافعت میں بھی تلوار اگر اٹھاتا ہوں

تو بے قصور کہاں ہوں کہ سر اٹھاتا ہوں

خفا ہیں اہلِ فلک میری چیرہ دستی پر

ستارے بو کے زمیں سے ضر ر اٹھاتا ہوں

مِرا کمالِ ہُنر میری صاف گوئی ہے

صعوبتیں بھی اسی بات پر اٹھاتا ہوں

ثمر بدست شجر پر چلائے تھے پتھر

گِرے ہیں پھل میں انھیں چوم کر اٹھاتا ہوں

اگرچہ دل پہ ٹپکتی ہے یاد کی شبنم

خفیف ہوں کہ دھواں رات بھر اٹھاتا ہوں

گزر گیا وہ بگولہ، وہ ریت بیٹھ گئی

میں بیٹھتا ہوں نہ رختِ سفر اٹھاتا ہوں

سخنوروں میں مظفر کو سُرخ رو رکھیو

ترے حضور کفِ بے ہنر اٹھاتا ہوں

Related posts

Leave a Comment