اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے
عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے
Related posts
-
سید آلِ احمد
کس کو فرصت ہے مجھے ڈھونڈنے نکلے احمدؔ اپنی ہی چاپ پہ کب تک میں پلٹ... -
-
محسن اسرار
خدا نے اپنے تئیں روشنی اُتاری تھی کہ آدمی نے اندھیرا تو خود اتارا ہے
