عابد معروف مغل ۔۔۔ دو غزلیں

اب حسیں سامنے سے گزرتا نہیں
پھر بھی دل کیوں سنبھالے سنبھلتا نہیں

خوف چھایا ہے ایسا مرے شہر میں
اب گھروں سے کوئی بھی نکلتا نہیں

ساتھ چھوٹا ہے جب اس حسیں شخص کا
خواب آتے نہیں دل بہلتا نہیں

میں نے بچپن سے ہے جو سنبھالا ہوا
کھوٹا سکہ کہیں اب وہ چلتا نہیں
سہمے سہمے سبھی لوگ ہیں شہر کے
اب خوشی سے کوئی بھی اچھلتا نہیں

یہ بڑھاپے کی ہے اک علامت کہ اب
دل حسیں دیکھ کر بھی مچلتا نہیں

۔۔۔

مقتل سے دیکھنا وہی نکلیں گے شان سے
مضبوط جن کے ہوں گے ارادے چٹان سے

تجھ کو پتا چلے جو تماشے لگے یہاں
نیچے اْتر کے دیکھ کبھی آسمان سے

آ دیکھ عمر بھر کے اثاثے یہی تو ہیں
انبار تیری یادوں کے نکلے مکان سے

یہ جانتے ہیں سارے منافق نہیں ہوں میں
جو پوچھنا ہے پوچھ اسی خاندان سے
دہشت کی ان فضاؤں سے اکتا کے ایک دن
ڈھونڈو گے تم سکون یہاں ہر دکان سے

مدت کے بعد کل یہاں جو فیصلہ ہوا
قاتل پکڑ میں آ گیا خوں کے نشان سے

عابد جو میرے دشمنوں کی صف میں ہیں کھڑے
کیوں پوچھتے ہیں راز مرے راز دان سے

Related posts

Leave a Comment