اب حسیں سامنے سے گزرتا نہیں پھر بھی دل کیوں سنبھالے سنبھلتا نہیں خوف چھایا ہے ایسا مرے شہر میں اب گھروں سے کوئی بھی نکلتا نہیں ساتھ چھوٹا ہے جب اس حسیں شخص کا خواب آتے نہیں دل بہلتا نہیں میں نے بچپن سے ہے جو سنبھالا ہوا کھوٹا سکہ کہیں اب وہ چلتا نہیں سہمے سہمے سبھی لوگ ہیں شہر کے اب خوشی سے کوئی بھی اچھلتا نہیں یہ بڑھاپے کی ہے اک علامت کہ اب دل حسیں دیکھ کر بھی مچلتا نہیں ۔۔۔ مقتل سے دیکھنا وہی…
Read More