انور شعور ۔۔۔ کیسی خطا، کیسی جزا، جو ہو گیا سو ہو گیا

کیسی خطا، کیسی جزا، جو ہو گیا سو ہو گیا
نادان ہے دل، اے خدا! جو ہو گیا سو ہو گیا

قربان ہونا تھا جنھیں قربان تم پر ہو گئے
اب کیا تلافی، کیا صلہ جو ہو گیا سو ہو گیا

آپس میں اے دل! اے جگر! رنجش سے اچھی درگزر
موقع نہیں تفصیل کا، جو ہو گیا سو ہو گیا

چپ چاپ کیوں ہو دیوتا، ایسی بھی کیا گھمبیرتا
آؤ، ہنسیں بولیں ذرا، جو ہو گیا سو ہو گیا

بندہ معافی مانگ کر شرمندہ ہوتا ہے شعورؔ
اب کیا معافی مانگنا، جو ہو گیا سو ہو گیا

Related posts

Leave a Comment