ارشد شاہین ۔۔۔ قُربِ رسولِ پاک کا زینہ ہے کربلا

‎قُربِ رسولِ پاک کا زینہ ہے کربلا
‎ارشد مرے لیے تو مدینہ ہے کربلا

‎اس میں غمِ حسین کا پیہم قیام ہے
‎زخموں سے چور چور یہ سینہ ہے کربلا

‎جو اس میں ہے سوار وہی کامیاب ہے
‎اے دوست! برّیت کا سفینہ ہے کربلا

‎تیرہ و تار جگ کو چمک اس سے ہے ملی
‎خاتم ہے یہ جہاں تو نگینہ ہے کربلا

‎اک غم کی کیفیت ہی یہاں پائیدار ہے
‎اور اس کا لازوال خزینہ ہے کربلا

‎اکسیر اس کی خاک شہیدوں کے خون سے
‎ہر درد کی شفا کا دفینہ ہے کربلا

‎دو جگ میں جو فلاح کی روشن سبیل ہے
‎اک ایسا بندگی کا قرینہ ہے کربلا

Related posts

Leave a Comment