دریا کا کنارا ہے یہ دردِ جدائی تو بس اپنا سہارا ہے آکاش پہ تارے ہیں دھرتی پہ جو بکھرے ہیں وہ اشک ہمارے ہیں کوئی پتا چناروں کا دے سندیس مجھے کو تو آتی بہاروں کا بادل کیوں برستے ہیں تم دور نہیں پھر بھی ملنے کو ترستے ہیں جوگی اترا پہاڑوں سے پتہ پوچھوں ساجن کا کونجوں کی ڈاروں سے تو دیا میں باتی ہوں ساتھ نہ چھوڑوں گی سوگندھ یہ کھاتی ہوں ٹہنی سے گری کلیاں کیوں چھوڑ چلے ساجن تم پیار بھری گلیاں
Read MoreCategory: ماہیا
نسیمِ سحر ۔۔۔ ماہیے
اپنوں میں نہیں دیکھا تعبیر تو کیا ، اُس کو سپنوں میں نہیں دیکھا ……… بھرپور جوانی ہے جاناں کا سراپا بھی دلچسپ کہانی ہے ……… برہم ہوں زمانے سے روکا ہے ہمیں اس نے کیوں ملنے ملانے سے ……… دل توڑ گیا کوئی آتے ہوئے جب ، اپنا رخ موڑ گیا کوئی جس دن سے وہ روٹھا ہے دل جڑ ہی نہیں پایا کچھ ایسے یہ ٹوٹا ہے
Read Moreسیما پیروز ۔۔۔ ماہیے (ماہنامہ بیاض اکتوبر ۲۰۲۳)
آنگن کو سجایا نہیں بادل تھا وہ ساون کا پھر لوٹ کے آیا نہیں …………… کوئی دیس گلابوں کا کیوں توڑ دیا تو نے شیشہ میرے خوابوں کا …………… روشن اک تارا ہے کیوں روٹھ گئے ساجن کیا دوش ہمارا ہے …………… نہ نیند نہ سپنا ہے آ اب لوٹ چلیں وہ دیس تو اپنا ہے …………… جیون تو فسانہ ہے منزل ہے دور میری پر لوٹ کے جانا ہے …………… سیا چین کو جا کاگا ہے دور میرا ڈھولا پیغام پہنچا کاگا …………… راتوں کو نہ سوئی میں جب…
Read More