بوتلیں کھول کر تو پی برسوں آج دل کھول کر بھی پی جائے
Read MoreTag: راحت اندوری
راحت اندوری
شام نے جب پلکوں پہ آتش دان لیا کچھ یادوں نے چٹکی میں لوبان لیا
Read Moreراحت اندوری
روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہے چاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہے
Read Moreراحت اندوری
اجنبیت کی بستی میں بقا کی تمنا لیے، شاعر نے دشمنوں کے درمیان دل تھام کر قدم رکھا ہے۔
جہاں ہمدردوں کی گنتی انگلیوں پر ہو، وہاں ہر سانس بھی گویا جرأتِ اظہار کا استعارہ بن جاتی ہے۔
راحت اندوری
راحت اندوری کا یہ شعر تعلیم یافتہ نوجوانوں کی خاموش بے بسی اور نظامِ معاش کی بےحس بیکاری کا علامتی و احتجاجی اظہاریہ ہے۔
Read Moreراحت اندوری
شاعر نے خود کو اس درجہ تنہا، سرد اور بےحس پایا کہ وجود ہی کمبل بن گیا، جذبات کی گرمی مفقود ہو چکی۔
یہ مصرع ایک ایسے باطن کی ترجمانی ہے جہاں رضا، راحت اور رفاقت سب خواب ہو چکے ہوں۔
راحت اندوری
چاند سورج مری چوکھٹ پہ کئی صدیوں سے روز لکھے ہوئے چہرے پہ سوال آتے ہیں
Read Moreراحت اندوری
میں کروٹوں کے نئے ذائقے لکھوں شب بھر یہ عشق ہے تو کہاں زندگی عذاب کروں
Read Moreراحت اندوری
اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے
Read Moreراحت اندوری
دوستی جب کسی سے کی جائے دشمنوں کی بھی رائے لی جائے
Read More