ثمر جمال ۔۔۔ جو کوئی وقعتِ تجدید سمجھتا ہی نہیں

جو کوئی وقعتِ تجدید سمجھتا ہی نہیں میں اُسے قابلِ تقلید سمجھتا ہی نہیں آج کے دور کا انسان بہت ضدی ہے کُھل کے کرتے رہو تنقید، سمجھتا ہی نہیں وہ ترے دل میں چُھپی بات کہاں سمجھے گا؟ جو ترے لفظوں کی تعقید سمجھتا ہی نہیں کوئی بھی بات طوالت سے بُری لگتی ہے میں کسی قسم کی تمہید سمجھتا ہی نہیں تیرے ہونے کا گماں، دل کو جواں رکھتا ہے تو کہ اِس بات کو بے دید! سمجھتا ہی نہیں اُن کو تہوار مبارک جنہیں سب حاصل ہے…

Read More

ثمر جمال ۔۔۔ دو غزلیں

صدقہ اے یار کیوں نہیں دیتے اپنا دیدار کیوں نہیں دیتے تم مجھے چھوڑ کیوں رہے ہو اب؟ تم مجھے مار کیوں نہیں دیتے جا رہے ہو تو کچھ تحائف دو رنج آزار کیوں نہیں دیتے گھڑی دیتے ہو مجھ کو تحفے میں وقت سرکار کیوں نہیں دیتے مجھ کو غم ہی دیا خدائے جہاں مجھ کو غم خوار کیوں نہیں دیتے بس ثمر مشورہ ہی دیتے ہیں ساتھ اب یار کیوں نہیں دیتے ۔۔۔۔۔ تیرے دل سے فرار چاہتا ہوں دلربا! میں قرار چاہتا ہوں تیرے پہلو میں جو…

Read More